خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 196
196 آکر اسلامی فیوض سے خود بھی مستفیض ہوتے اور واپس جا کر اپنی جماعتوں کو بھی اس فیض سے بہرہ ور کرتے۔ہماری جماعت کی عورتیں جب علم کے میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دین کے میدان میں مردوں سے پیچھے رہ جائیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں نبی پر ایمان لانے اور اس کی کامل اطاعت اختیار کرنے کے لحاظ سے مرد اور عورت کو یکساں ذمہ دار قرار دیا ہے۔جب ہم تاریخ اسلام پر غور کرتے ہیں تو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والی سب سے پہلے ایک عورت ہی نظر آتی ہے۔یعنی حضرت خدیجتہ الکبری جو سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور نہ صرف ایمان ہی لا ئیں بلکہ اشاعت اسلام میں بھی پورا پورا تعاون فرمایا۔پھر ہندہ جیسی دشمن اسلام عورت جب اسلام لے آئی تو مختلف اوقات میں اس نے ایسی قربانیاں کیں کہ آج بھی ان کو پڑھ کر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی قرون اولیٰ کی صحابیات کی طرح اپنے اندر دین کی خدمت کی نئی روح اور جوش پیدا کریں اور خلافت احمدیہ سے وابستگی کا پورا پورا ثبوت دیں بلکہ اپنی نسلوں میں بھی اس وابستگی کو زیادہ پختگی سے جاری کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لائے ہوئے رُوحانی اور علمی خزانوں کو لوگوں میں تقسیم کریں اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں۔لفظ اسلام کے معنی کامل فرماں برداری کے ہیں اس کی عملی تصدیق کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اشاعت اسلام کیلئے ہر ممکن کوشش کریں اور ہم اپنے آپ کو اپنے عمل سے احمدیت کا ستون ثابت کر دیں۔اسلام کے صرف پانچ ارکان پر عمل کر لیتا انسان کو کامل مومن نہیں بنا سکتا جب تک ہم خدا تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق کو پورا پورا ادا نہ کریں اور سچائی ، صفائی ، ہمدردی اور خدمت خلق جیسے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہ کریں۔آخر میں آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ آپ ان باتوں پر خود بھی عمل پیرا ہوں گی اور اپنی دوسری بہنوں کو بھی عمل پیرا کرنے کی کوشش کریں گی۔تاریخ مجنہ جلد دوم صفحہ 482