خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 174
174 سے جذبات نفسانی رکھتے ہیں۔اور جس سے چار نا چار ایک تبدیلی انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔۔سوچو اور خوب سوچو کہ جہاں جہاں سزا پانے کا پورا یقین تمہیں حاصل ہے وہاں تم ہرگز اس یقین کے برخلاف کوئی حرکت نہیں کر سکتے۔بھلا بتاؤ کیا تم آگ میں اپنا ہاتھ دے سکتے ہو؟ کیا تم چلتی ہوئی ریل کے آگے لیٹ سکتے ہو؟ کیا تم پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اپنے تئیں گرا سکتے ہو؟ کیا تم شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے سکتے ہو؟ تو اب بتلاؤ کہ ایسا تم کیوں کرتے ہو؟ اور کیوں ان تمام موذی چیزوں سے علیحدہ ہو جاتے ہو؟ مگر وہ گناہ کی باتیں جو ابھی میں نے لکھی ہیں ان سے تم علیحدہ نہیں ہوتے۔اس کا کیا سبب ہے وہ یہی ہے کہ ان دونوں صورتوں میں علم کا فرق ہے۔یعنی خدا کے گناہوں میں اکثر انسانوں کا علم ناقص ہے۔اور وہ گناہوں کو برا تو جانتے ہیں مگر شیر اور سانپ کی طرح نہیں سمجھتے سوہ پانی جس سے تم سیراب ہو جاؤ گے۔اور گناہ کی سوزش اور جلن جاتی رہے گی وہ یقین ہے۔آسمان کے نیچے گناہ سے پاک ہونے کے لئے بجز اس کے کوئی بھی حیلہ نہیں ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل جنوری 1902 کے اعمال کی اصلاح:۔ایمان اور یقین کی پختگی کے بعد عملی اصلاح کی تفاصیل کا میدان نہایت وسیع ہے۔دراصل انسان کو اپنی زندگی میں جس جس میدان میں قدم رکھنا پڑتا اور جس جس ماحول کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ان سب میں اسے کوئی نہ کوئی اعمال بھی بجالانے ہوتے ہیں۔اس لئے ہر میدان میں ایمان کی دیکھ بھال اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔تا کہ کوئی قدم صحیح ایمان اور صحیح عقائد کے خلاف نہ اٹھ جائے یا با الفاظ دیگر کوئی قدم خدا کے منشاء کے خلاف نہ اٹھایا جائے۔اور سچا مومن اور سچا متقی وہی ہے۔جو اپنا ہر قدم اٹھاتے ہوئے اس بات کو سوچنے کا عادی ہو کہ کیا میرا یہ قدم میرے آقا و مالک کے منشاء کے خلاف تو نہیں ہے۔تربیت اولاد:۔اب میں چند ایسی باتیں بیان کرتی ہوں جن میں طبقہ نسواں میں زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے میں تربیت اولاد کے سوال کو لیتی ہوں کیونکہ یہ مسئلہ قومی زندگی کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔اگر اولاد کی تربیت صحیح طریق پر ہو تو قوم کی عملی اصلاح داتی بنیادوں پر قائم ہو جاتی ہے۔اور نہ صرف قوم کا حال سدھر جاتا ہے۔بلکہ مستقبل بھی روشن ہو جاتا ہے اس لئے اسلام نے تربیت اولاد کے مسئلہ پر بہت زور دیا ہے۔