خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 173 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 173

173 ہو عملی اصلاح کی کوئی اور تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات پہ خاص زور دیا ہے کہ گناہ سے نجات پانے کا ذریعہ صرف یقین کامل ہے۔اور یقین ایمان ہی کا دوسرا نام ہے۔پس سب سے پہلی اور سب سے ضروری بات میں اپنی بہنوں سے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنے ایمانوں کو درست کریں کیونکہ دین و مذہب اور اخلاق و روحانیت کی ساری عمارت اسی بنیاد پہ قائم ہوتی ہے۔یہ مت خیال کرو کہ ہم نے خدا کو ایک مان لیا ہے۔اور آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین تسلیم کر لیا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو امام الزمان یقین کر لیا ہے۔کیونکہ اگر یہ ایمان صرف مونہہ کا ایمان ہے۔اور اس کے اندر زندگی کی روح نہیں ہے۔تو ایسا ایمان ایک مردہ لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔اور اس صورت میں وہ کبھی بھی نیک اعمال کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ہے۔پس اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اور اپنے دلوں کو ٹو لو کہ کیا تمہارا ایمان واقعی زندہ ایمان۔جب تم یہ کہتی ہو کہ خدا ہے۔تو کیا تم واقعی خدا کو سچ مچ مانتی ہو۔اور اس کی ہستی پر کم از کم ایسا ہی یقین رکھتی ہو۔جیسا کہ تم اس بات پر یقین رکھتی ہو۔کہ مثلاً یہ سورج ہے اور یہ چاند ہے۔یہ زمین ہے اور یہ آسمان ہے۔یہ ہمارا باپ ہے اور یہ ہماری ماں ہے اور تمہیں خدا کی قدرتوں کا کم از کم ایسا ہی یقین ہوتا ہے۔جیسا کہ دنیا کی طاقتوں پر مثلاً روپے پر اور دوائی پر اور عقل پر اور تدبیر پر وغیرہ وغیرہ۔حقیقی ایمان :۔مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگوں کا ایمان محض رسمی ایمان ہوتا ہے۔جس میں زندگی کی روح نہیں پائی جاتی۔بہر حال سب سے بڑی اور سب سے مقدم ضرورت حقیقی ایمان پیدا کرنا ہے۔ایسا ایمان جو یقین کامل تک پہنچا ہوا ہو۔کیونکہ یہی وہی ایمان ہے۔جو اعمال کی کمزوریوں کو جلا کر خاک کر دیتا ہے۔اور گناہ سے نجات دلاتا ہے۔حضرت مسیح موعوعلیہ الصلوۃ والسلام کیا خوب فرماتے ہیں۔گنا ہوں سے پاک ہونے کے لئے اس وقت سے جو انسان پیدا ہوا ہے آج تک جو آخری دن ہیں صرف ایک ہی ذریعہ گناہ اور نافرمانی سے بچنے کا ثابت ہوا ہے۔اور وہ یہ کہ انسان یقینی دلائل اور چمکتے ہوئے نشانوں کے ذریعہ سے اس معرفت تک پہنچ جائے کہ جو درحقیقت خدا کو دکھا دیتی ہے اور کھل جاتا ہے کہ خدا کا غضب ایک کھا جانے والی آگ ہے۔اور پھر تجلی حسن الہی کی ہوکر ثابت ہو جاتا ہے کہ ہر یک کامل لذت خدا میں ہے۔یعنی جلالی اور جمالی طور پر پردے اٹھائے جاتے ہیں یہی ایک طریق ہے جس