خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 172 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 172

172 خطاب جلسہ سالانہ 1944ء اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی! سچے مسلمان کی علامت:۔قرآن شریف کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے ( اور عقل خدا داد کا بھی یہی فتویٰ ہے ) کہ صحیح اور کامل اصلاح کے واسطے دو باتوں کی ضرورت ہے۔(الف)۔درست ایمان اور ( ب ) درست اعمال۔اس لئے قرآن شریف نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ بچے مسلمانوں کی علامت یہ ہے کہ امنو اوعملو الصلحات یعنی نہ صرف ان کا ایمان صحیح ہوتا ہے بلکہ وہ نیک اور مناسب حال اعمال بھی بجالاتے ہیں پس جب تک یہ دو باتیں جمع نہ ہوں کوئی شخص اصلاح یافتہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔صحیح ایمان کی ضرورت :۔صحیح ایمان کی اس واسطے ضرورت ہے کہ (الف) ایمان اعمال کے لئے بطور بنیاد ہے۔اگر ایمان حقیقی ہے۔تو جیسا ایمان ہوگا لازما ویسے ہی اعمال ہوں گے اگر ایمان غلط یا ناقص ہے تو اعمال کبھی بھی صحیح اور کامل نہیں ہو سکتے۔کیونکہ اعمال ایمان سے پیدا ہوتے ہیں۔(ب) صحیح اعمال کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے واسطے بھی ایمان ضروری ہے۔کیونکہ اعمال کے واسطے ایمان کا وجود ایسا ہے جیسا کہ ایک باغ کے واسطے پانی کا وجود ہوتا ہے۔جس طرح آبپاشی کے انتظام کے بغیر کوئی باغ زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح اعمال کے درخت بھی ایمان کے پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔پس ایمان نہ صرف اعمال کا منبع ہے۔بلکہ ان کی زندگی کا سہارا بھی ہے۔لہذا کوئی عملی اصلاح ایمان کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔اس لئے قرآن شریف نے جہاں جہاں بھی نیک اعمال کا ذکر کیا ہے وہاں لازماً اس سے پہلے بچے ایمان کا بھی ذکر کیا ہے تا کہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ اگر اعمال کی درستی چاہتے ہو تو پہلے اپنے ایمانوں کو درست کرو۔اور حق تو یہ ہے کہ اگر ایمان درست ہو جائے اور اس میں کسی قسم کی کمزوری باقی نہ رہے تو اعمال خود بخود درست ہو جاتے ہیں۔گناہ سے نجات پانے کا ذریعہ:۔پس عملی زندگی میں اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ ایمان کی اصلاح ہے۔جب تک ایمان درست نہ