خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 166 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 166

166 فتوحات جلد از جلد ظہور پذیر ہوں جن کی خبر خود تو نے دی تھی۔تیری یاد ایسی نہیں جسے وقت مندمل کر سکے ہاں خدا کے فضل اور اس کی محبت کی آغوش میں انسان اپنے دکھوں کو بھول کر پناہ لیتا ہے۔انسان کمزور ہے اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اسے سہارا نہ دیتا رہے تو نہ معلوم کس تاریکی میں گر جائے۔اس لئے دعا ہے کہ: ”اے پیارے محمود کی روح ! اللہ تعالیٰ ہر آن آپ کے مقام کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔یہ جدائی کا عرصہ نہ معلوم کتنا ہے لیکن جتنا عرصہ بھی اس دنیا میں رہنا ہے اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری ، اس کی رضا کی راہوں پر چلنے میں۔آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت ، نظام خلافت سے کامل وابستگی اور اشاعت اسلام کے لئے قربانیاں دینے میں وقت گزرے۔جب اپنے مولیٰ کی طرف سے بلاوا آئے اور اس دنیا میں آپ سے ملنا ہو تو آپ بھی خوش ہوں کہ ہماری زندگیاں عین اس تعلیم کے مطابق جو آپ ہمیں دیا کرتے تھے اور ہم بھی مطمئن ہوں کہ سرخرو ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو سکیں اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر ہم سب کو ڈھانپ لے۔آمین یہ جدائی کے ایام تلخ ضرور ہیں لیکن یہ دیکھ کر دل کو مسرت اور خوشی حاصل ہوتی ہے کہ آپ کا شروع کیا ہوا کام ترقی پر ہے۔جماعت کے لئے ہر سورج جو طلوع ہوتا ہے وہ کوئی نہ کوئی خوشخبری اپنے ساتھ ضرور لاتا ہے اور ہر شام آنے سے قبل ایک نئی منزل کی تعیین ہو چکی ہوتی ہے۔آپ بے شک ہم سے ظاہر طور پر جدا ہو چکے ہیں۔تین سال پہلے آج کی رات کا تصور بھی جسم کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔آنکھوں کو دھندلا کر دیتا ہے مگر آپ زندہ ہیں اپنے زندہ جاوید کارناموں سے، آپ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے خلافت کے ذریعہ، جیسا کہ آپ نے خود ایک موقع پر کہا تھا کہ آنے والا مؤرخ بغیر میرا نام لئے تاریخ اسلام لکھ نہیں سکے گا۔یہ حقیقت ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تاریخ بلکہ تاریخ عالم نامکمل رہے گی اگر آپ کا ذکر اس میں نہ ہوگا۔خدا کرنے کہ وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا میں صرف محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا جائے۔وہ دن جلد آئے جب نظام خلافت کا وسیع دائرہ ساری دنیا کو اپنے گھیرے میں لے لے۔وہ دن آئے گا اور انشاء اللہ ضرور آئے گا خدا کے مسیح کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی لیکن اس وقت دنیا آپ کے نام پر نعرہ تحسین بلند کرنے سے رک نہ سکے گی۔اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ الفضل یکم دسمبر 1968ء