خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 150
150 إِذْ لَّا يُضَيِّعُنَا اللَّهُ أَبَداً اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی سے تم ہمیں چھوڑ رہے ہو تو پھر خدا ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اور ایسا ہی ہوا۔آج وہی بے آب و گیاہ وادی ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ارضِ حرم ہے اور وہاں جانے اور حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے ہر مسلمان کا دل بے تاب رہتا ہے اللہ تعالیٰ پر زندہ ایمان ہی تھا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو اپنے بچہ کو صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈالنے پر آمادہ کر دیا تھا۔اور یہی وہ ایمان تھا کہ حضرت موسیٰ کی قوم کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ ہم تو اب تباہ ہو جائیں گے اور وہ مایوس ہو گئے تو حضرت موسیٰ نے کہا كَلَّا انَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء: 63) میرا خدا میرے ساتھ ہے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مجھے چھوڑ دے وہ خود میرے لئے راہ نجات نکالے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس قادر خدا نے حضرت موسیٰ کو فرعون سے نجات دی۔اسی ایمان کا مظاہرہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر چڑھ کر کیا۔ان کو معلوم تھا کہ ان کا خدا خود ان کی حفاظت کرے گا اور اس نے ان کو صلیب سے زندہ اتار لیا اور اس کے بعد ایک لمبی زندگی عطا کرنے کے بعد ان کو طبعی وفات دی۔زندہ خدا کی سب سے بڑی جیلی :۔زندہ خدا کی سب سے بڑی تجلی سرور دو جہاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود با برکت کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوئی۔آپ ﷺ اکیلے تھے سارا مکہ آپ ﷺ کا مخالف تھا۔اردگرد کی سلطنتیں آپ ﷺ کی جانی دشمن تھیں۔یہودو نصاری آپ ﷺ کے خون کے پیاسے تھے مگر آپ ﷺ جانتے تھے کہ خدا کا وعدہ ہے کہ آپ ﷺ ہی غالب آئیں گے کتناز بر دست ایمان تھا۔آپ ﷺ کو اپنے زندہ خدا پر کہ جب سرداران مکہ نے آپ ﷺ کے سامنے اپنا یہ مطالبہ پیش کیا کہ اگر آپ ﷺ کو دولت کی ضرورت ہے تو ہم دولت کے ڈھیر آپ ﷺ کے قدموں پر نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔شادی کرنا چاہتے ہیں تو مکہ کی حسین ترین لڑکی سے شادی کروا دیتے ہیں۔حکومت کی خواہش ہے تو اپنا سردار بھی آپ کو ماننے کو تیار ہیں لیکن ہمارے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دیں اور توحید کا پر چار نہ کریں۔آپ ﷺ نے فرمایا میرے چا! ان سے کہہ دیں کہ یہ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کھڑا کریں تب بھی