خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 142
142 تحریک جدید دفتر سوم اور لجنات اماءاللہ کا فرض تحریک جدید کا آغاز حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 1934 ء میں فرمایا شروع میں آپ نے تین سال کے لئے قربانیوں کا مطالبہ فرمایا۔پھر دس سال پھر انہیں سال اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر آپ نے اعلان فرمایا کہ تحریک جدید دائمی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: یہ تحریک ہے تو دائمی ، نہ صرف دائمی بلکہ ہمارے ایمان اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ تحریک ہمیشہ جاری رہے۔جس طرح روٹی کھانا دائمی ہے۔لیکن جب ہمیں روٹی نہیں ملتی تو ہم چلاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ وہ روٹی دے۔اسی طرح ہمیں اشاعت دین کی بھی ضرورت ہے اگر ہمیں اشاعت دین کی بھی ضرورت ہے اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق ملتی ہے تو ہم تو خدا تعالیٰ کے ممنون احسان ہوتے ہیں اگر ہمیں اشاعت دین کی توفیق نہیں ملتی تو ہم شکر نہیں کرتے بلکہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں کہ اس نے ہم میں کیوں ضعف پیدا کر دیا۔ہم دین کی خاطر کیوں قربانی نہیں کر سکتے۔جتنی قربانی ہم پہلے کرتے تھے یہی ایمان کی ایک زندہ علامت ہے، اگر یہ علامت نہیں پائی جاتی تو سمجھ لو کہ ایمان نہیں پایا جاتا۔“ تحریک جدید کا دور اول اور دور دوم تو حضرت مصلح موعود کے جاری فرمودہ ہیں دور سوم حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مصلح موعود کی طرف ہی منسوب فرماتے ہوئے جاری فرمایا ہے۔دور اول کے لئے بڑوں نے بے نظیر قربانیاں دیں۔لیکن آہستہ آہستہ وہ قربانیاں دینے والے اس دار فانی سے رخصت ہو کر اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہونے شروع ہو گئے۔دور دوم نے ایک حد تک دور اول کا بوجھ بھی اٹھالیا۔چاہئے یہ تھا کہ دور سوم میں شامل ہونے والوں کا چندہ دور اول کے برابر ہوتا۔لیکن ابھی دور سوم کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔خصوصاً مستورات یہ بجھتی ہیں کہ ان کے خاوند تحریک جدید میں شامل ہو گئے یہ کافی ہیں حالانکہ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ہر ایک اپنے اعمال کا جواب دہ ہوگا اور قربانیوں کی جزاء پائے گا۔ہماری جماعت نے اگر زندہ رہنا ہے اور دنیا پر غالب آتا ہے تو ہم ایک منٹ کے لئے بھی نہیں سوچ سکتے کہ کوئی ایسا وقت بھی آسکتا ہے جب ہم سے قربانیوں کا مطالبہ نہیں ہوگا۔اسلام کا پرچم ساری دنیا میں لہرانے کے لئے انتہائی قربانیوں کی ضرورت ہے اور اس کے لئے جماعت کی ہر عورت کو خود بھی قربانیاں دینی چاہئیں اپنے خاوندوں ، باپوں ، بھائیوں کو بھی تحریک کرتے رہنا چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ابھی