خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 114
114 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ صفات الہیہ کے مظہر ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب (22) ہر زمانہ کے انسانوں کے لئے کامل نمونہ ہے۔بچوں کے لئے بھی جوانوں کیلئے بھی اور بوڑھوں کے لئے بھی۔مردوں کے لئے بھی عورتوں کیلئے بھی امیروں کے لئے بھی غریبوں کے لئے بھی۔بادشاہوں کے لئے بھی رعایا کے لئے بھی کاروباری انسانوں کیلئے بھی تاجروں کیلئے بھی استادوں کیلئے بھی طالبعلموں کیلئے بھی۔سیاستدانوں کے لئے بھی اور جرنیلوں کے لئے بھی غرض ہر شعبہ زندگی میں اعلیٰ اخلاق دکھانے کا آپ کو موقع ملا۔اور ایسا نمونہ آپ نے دکھایا ہے جو ساری دنیا کیلئے قابلِ تقلید ہے۔إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔(الاحزاب:57) اخلاق کیا ہیں؟ اخلاق کیا ہیں۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا اظہار جو اس کے بعد دل کے ذریعہ ہوتا ہے ان کا نام اخلاق ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا سکھائی تا اس کے بندے عاجزی اور تضرع سے اپنی ہدایت اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی دعا اس سے مانگتے ہیں تا وہ ہمیشہ سیدھے راستہ پر قائم رہیں اور اس سے بھٹک کر ادھر اُدھر نہ ہوں پھر صراط مستقیم تک پہنچنے کے لئے ایاک نعبد و ایاک نستعین کا راستہ بتایا کہ راہ راست پر چلنے اور منزل تک پہنچنے کے لئے انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں خدا تعالیٰ کا عبد بنے اس کے رنگ میں رنگین ہو اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے اور پھر ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے منزل تک پہنچنے کے لئے قوائے سلیم چاہتارہے تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو وہ خصائل اور اخلاق عطا ہوں۔ایسا عمل کرنے کی توفیق ملے جو اللہ تعالیٰ کا فضل جذب کرنے والے ہوں اور سیدھے راستے سے انسان کو بھٹکنے نہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اخلاق کی تعریف بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔اخلاق جو انسان کو انسان بناتا ہے۔اخلاق سے کوئی صرف نرمی کرنا ہی مراد نہ لے لے۔خُلق اور خلق دولفظ ہیں جو بالمقابل معنوں پر دلالت کرتے ہیں۔خلق ظاہری پیدائش کا نام ہے۔جیسے کان، ناک،