خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 92
تقری الضیف کے الفاظ سے فرمائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آنحضرت ﷺ کی کامل تابعداری کے لحاظ سے بہت مہمان نواز تھے اور باہر سے ہر آنے والے کے آرام کا خیال فرماتے تھے منشی عبد الحق ایک حق جو عیسائی قادیان برائے تحقیقات آئے۔آپ نے ان سے باتیں کرتے ہوئے فرمایا۔آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمان وہی آرام پا سکتا ہے جو بے تکلف ہو پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔“ یہ کہہ کر آپ گھر تشریف لے گئے۔ملفوظات جلد دوم صفحه 80 ایک ہند و فقیر کوٹ کپورہ سے آیا ہوا تھا حضرت اقدس نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ یہ ہمارا مہمان ہے اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہئے۔چنانچہ ایک شخص کو حکم دیا گیا اور وہ ایک ہندو کے گھر اس کو کھانا کھلانے لے گیا۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 315 بعد نماز مغرب حضرت اقدس حسب معمول جلوس فرما ہوئے تو میر صاحب نے عبد الصمد صاحب آمدہ از کشمیر کو آگے بلا کر حضور کے قدموں کے نزدیک جگہ دی اور حضرت اقدس سے عرض کی کہ ان کو یہاں ایک تکلیف ہے کہ یہ چاولوں کے عادی ہیں اور یہاں روٹی ملتی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِين وص : 87 ہمارے مہمانوں میں سے جو تکلف کرتا ہے اسے تکلیف ہوتی ہے اس لئے جو ضرورت ہو کہ دیا کرو پھر آپ نے حکم دیا کہ ان کے لئے چاول پکوا دیا کرو۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 482 25 دسمبر 1903 شام کے وقت بہت سے احباب بیرونجات سے آئے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میاں نجم الدین صاحب مہتم لنگر خانہ کو بلوا کرتا کید فرمایا کہ۔دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا کرام جان کر تو اضع کر وسردی کا موسم ہے چائے پلا ؤ اور کسی کو تکلیف نہ ہو تم پر میرا حسن ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کر دو۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 492