خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 91 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 91

صبر مقتل : اخلاق فاضلہ میں سے ایک خلق محمل ہے۔لوگوں کو برا بھلا کہنے یا گالیوں سے آپ کے نفس میں جوش لوگوں کی گالیوں سے ہمارا نفس جوش میں نہیں آتا۔“ نہیں آتا تھا آپ فرماتے ہیں اسی طرح آپ فرماتے ہیں ملفوظات جلد اوّل صفحہ 6 میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتار ہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 302 اللہ تعالیٰ کا آپ کے متعلق الہام تھا يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَيَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيق دور دراز سے لوگ آپ کے پاس آتے تھے لیکن ان سے ملنے اور باتیں کرنے سے بالکل نہ گھبراتے تھے۔آپ کی طبیعت ان کی کثرت سے بالکل اکتائی نہ تھی آپ فرماتے ہیں۔” خدا تعالیٰ نے فرمایا کی فوج در فوج لوگ تیرے پاس آئیں گے يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيق دور دراز سے تیرے پاس لوگ آئیں گے اور تحائف لائیں گے۔پھر یہ بھی کہا کہ لوگوں سے تھکنا مت۔اب کوئی سوچے اور دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے یہ وعدے کس طرح پورے ہوئے۔ان فہرستوں کو گورنمنٹ کے پاس دیکھ لے جو آنے والے مہمانوں کی مرتب ہو کر ہفتہ وار جاتی ہیں اور ڈاک خانہ اور ریل کے رجسٹروں کی پڑتال کرے جس سے پتہ لگے گا کہ کہاں کہاں سے تحائف اور روپیہ آرہا ہے اور قادیان میں بیٹھ کر دیکھیں کہ کس قدر ہجوم اور انبوہ مخلوق کا ہوتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی طرف سے بشارت اور قوت نہ ملے تو انسان تھک جاوے اور ملاقاتوں سے گھبرا اٹھے اس نے یہ الہام کیا کہ گھبرانا نہ۔ویسے ہی قوت بھی عطا کی کہ گھبراہٹ ہوتی ہی نہیں۔ملفوضات جلد سوم صفحہ 13,12 مہمان نوازی:۔ایک اعلیٰ درجہ کا خلق مہمان نوازی ہے۔حضرت خدیجہ نے بھی آنحضرت ﷺ کی تعریف