خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 90 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 90

اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔سُنے بھی۔“ اور میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں تو اپنے دشمن کا بھی سب سے بڑھ کر خیر خواہ ہوں کوئی میری باتوں کو ملفوظات جلد دوم صفحہ 103 کے آپ نے لاہور کے ایک بشپ کو مقابلہ کی دعوت دی لیکن اس نے دعوت قبول نہ کی بلکہ راہ فرار اختیار کی اس پر آپ نے فرمایا۔دیکھولا ہور کے بشپ صاحب نے لاہور میں بڑے اہم مضامین پر لیکچر دیئے اور اپنی قرآن دانی اور حدیث دانی کے ثبوت کے لئے بڑی کوشش کی لیکن اسے ہم نے دعوت دی تو باوجود یکہ پایونیر نے بھی اس کو شرمندگی دلائی مگر وہ صرف یہ کہہ کر کہ ہمارا دشمن ہے مقابلہ سے بھاگ گیا۔ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بشپ صاحب تو مسیح کی تعلیم کا کامل نمونہ ہونا چاہیے تھا اور اپنے دشمنوں کو پیار کرو پر ان کا پورا عمل ہوتا اگر میں ان کا دشمن بھی ہوتا حالانکہ میں سچ کہتا ہوں اور خدا کی قسم کہا کر کہتا ہوں کہ نوع انسان کا سب سے بڑھ کر خیر خواہ اور دوست میں ہوں۔“ ملفوظات جلد دوم صفحه 143 لله دشمن کی عزت پر بھی حملہ کرنا آپ کو نا پسند تھا چنا نچہ آپ فرماتے ہیں:۔د قتل کے مقدمہ میں ہمارے ایک مخالف گواہ کی وقعت کو عدالت میں کم کرنے کی نیت سے ہمارے وکیل نے چاہا کہ اس کی ماں کا نام دریافت کرے مگر میں نے اسے روکا اور کہا کہ ایسا سوال نہ کرو جس کا جواب وہ مطلق دے ہی نہ سکے اور ایسا داغ ہر گز نہ لگاؤ جس سے اسے مفر نہ ہو۔حالانکہ ان ہی لوگوں نے میرے پر جھوٹے الزام لگائے۔جھوٹا مقدمہ بنایا۔افتراء باند ھے اور قتل اور قید میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔میری عزت پر کیا کیا حملہ کر چکے ہوئے تھے اب بتلاؤ کہ میرے پر کون سا خوف ایسا طاری تھا کہ میں نے اپنے وکیل کو ایسا کرنے سے روک دیا۔صرف بات یہ تھی کہ میں اس بات پر قائم ہوں کہ کسی پر ایسا حملہ نہ ہو کہ واقعی طور پر اس کے دل کو صدمہ دے اور اسے کوئی راہ مفر کی نہ ہو۔“ ایک مخلص خادم نے عرض کی کہ حضور میرا دل تو اب بھی خفا ہوتا ہے کہ یہ سوال کیوں اس پر نہ کیا گیا۔آپ نے فرمایا کہ ”میرے دل نے گوارا نہ کیا“ اس نے پھر کہا یہ سوال ضرور ہونا چاہئے تھا آپ نے فرمایا 66 خدا نے دل ہی ایسا بنایا ہے تو بتلاؤ میں کیا کروں۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 59