خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 89 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 89

اسی طرح فرماتے ہیں:۔میں اپنے دل میں مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی کے لئے ایک جوش رکھتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے میرے " دل میں ڈالا ہے۔ملفوظات جلد چہارم ص 129 مخالفین سے ہمدردی:۔آپ کی یہ ہمدردی صرف اپنوں اور عزیزوں کے ساتھ ہی نہ تھی بلکہ ان مخالفین کے ساتھ بھی جو آپ کو کا فرقرار دیتے تھے اور آپ کو گالیاں دیتے نہ تھکتے تھے آپ کا سلوک محبت کا تھا آپ فرماتے ہیں۔”ہم تیار ہیں کہ ہمارے مخالف ہمارے ساتھ صلح کر لیں میرے پاس ایک تھیلہ ان گالیوں سے بھرے ہوئے کاغذات کا پڑا ہے ایک نیا کاغذ آیا تھا وہ بھی آج میں نے اس میں داخل کر دیا ہے مگر ان سب کو ہم جانے دیتے ہیں۔اپنی جماعت کے ساتھ اگر چہ میری ہمدردی خاص ہے مگر میں سب کے ساتھ ہمدردی کرتا ہوں اور مخالفین کے ساتھ بھی میری ہمدردی ہے جیسا کہ ایک حکیم تریاق کا پیالہ مریض کو دیتا ہے کہ وہ شفا پاوے مگر مریض غصہ میں آکر اس پیالہ کوتوڑ دیتا ہے تو حکیم اس پر افسوس کرتا ہے اور رحم کرتا ہے ہمارے قلم سے مخالف کے حق میں جو کچھ الفاظ سخت نکلتے ہیں وہ محض نیک نیتی سے نکلتے ہیں جیسے ماں بچہ کو کبھی سخت الفاظ بولتی ہے مگر اس کا دل درد سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 454 1901ء میں ایک عیسائی منشی عبد الحق قادیان حق کی تلاش میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کئی بار ملے اور مختلف مسائل پر گفتگو کی اور بتایا کہ میں نے جب قادیان آنے کا ارادہ کیا تو ایک عیسائی سے ذکر کیا تو اس نے آپ کو گالی دی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سن کر فرمایا۔گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتا ہوں تو گالیاں ہوتی ہیں اشتہاروں میں گالیاں دی جاتی ہیں اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاں لکھ کر بھیجتے ہیں مگر ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اور خدا کا نور کہیں بجھ سکتا ہے۔ہمیشہ نبیوں راستبازوں کے ساتھ ناشکروں نے یہی سلوک کیا ہم جس کے نقش قدم پر آئے ہیں مسیح ناصری اس کے ساتھ کیا ہوا اور ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا اب تک نا پاک طبع لوگ گالیاں دیتے ہیں میں تو بنی نوع انسان کا حقیقی خیر خواہ ہوں جو مجھے دشمن سمجھتا ہے وہ خود اپنی جان کا دشمن ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 91)