خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 42

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء شک نہیں کہ باوجود ہزار ہا نشانوں کے جو خدا نے میرے لئے دکھلائے پھر بھی میں سخت تکذیب کا نشانہ بنایا گیا ہوں اور میری کتابوں کے یہودیوں کی طرح معنے محرف مبدل کر کے اور بہت کچھ اپنی طرف سے ملا کر میرے پر صد با اعتراض کئے گئے ہیں کہ گویا میں ایک مستقل نبوت کا دعوی کرتا ہوں اور قرآن کو چھوڑتا ہوں اور گویا میں خدا کے نبیوں کو گالیاں نکالتا ہوں اور توہین کرتا ہوں اور گویا میں معجزات کا منکر ہوں۔سو میری یہ تمام شکایت خدا تعالیٰ کے جناب میں ہے اور میں یقینا جانتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے میرے حق میں فیصلہ کرے گا کیونکہ میں مظلوم ہوں“۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن۔جلد نمبر 23 صفحہ نمبر 334) فرمایا کہ : ”میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے۔کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے، معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے۔جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ (الحجر: 10) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ ۴۲