خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 49
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء احسان ہم اور ہماری نسلیں تا قیامت نہیں اتار سکتیں۔پس ہم نے تو ان کے احسان کی وجہ سے اس درخت وجود کی سرسبز شاخیں بننے کا اعزاز پایا ہے جنہوں نے تمام دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھنڈے سائے تلے لانا ہے۔اگر آج تمہارے دجل میں آکر کوئی بد قسمت سچائی کو پا کر پھر اس کو چھوڑ بیٹھتا ہے تو اس بات پر خوش نہ ہو کہ الہی جماعتوں سے سوکھی شاخوں کی شاخ تراشی خدا کی تقدیر ہمیشہ سے کرتی آئی ہے۔جان، مال، وقت اور عزت کی قربانی کوئی کمزور ایمان نہیں دیتا۔یہ قربانیوں کے معیار جو آج احمدی قائم کر رہے ہیں یہ صاف بتا رہے ہیں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے اس فرستادہ پر کامل ایمان اور یقین ہے۔اور ہر ابتلاء ہر احمدی کا ایمان پہلے سے مضبوط کرتا ہے۔لاہور کے شہداء کی اجتماعی شہادت کے بعد تو مجھے دنیائے احمدیت کے ہر شہر اور ہر ملک سے یہ اطلاعیں آ رہی ہیں کہ جو دنیاوی کاموں میں پڑ کر مسجد سے بے تعلق اور کمزور ہو گئے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی مسجد سے جڑنے کی توفیق عطا فرما دی ہے۔بلکہ بعض تو با قاعدہ اور پرانے مسجد میں آنے والوں سے بھی پہلے آکر مسجد میں بیٹھنے لگ گئے ہیں۔پس کیا تمہاری ان دجالی چالوں سے احمدیوں کا ایمان کمزور ہو سکتا ہے۔یاد رکھو تمہاری یہ خوش فہمی ہے اور ہم پر بدظنی ہے۔ہمیشہ کی طرح یہ بدظنی تمہیں شرمندہ کرے گی بشرطیکہ تمہارے اندر شرمندہ ہونے والا دل ہو ۴۹