خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 41
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو ان کے خلیفہ عبداللطیف مرحوم اور شیخ عبداللہ عرب نے زبانی بھی مجھے سنائیں اور اب بھی میرے دلی دوست سیٹھ صالح محمد حاجی اللہ رکھا صاحب جب مدراس سے ان کے پاس گئے تو انہیں بدستور مصدق پایا بلکہ انہوں نے عام مجلس میں کھڑے ہو کر اور ہاتھ میں عصا لے کر تمام حاضرین کو بلند آواز سے سنا دیا کہ میں اُن کو اپنے دعوئی میں حق پر جانتا ہوں اور ایسا ہی مجھے کشف کی رُو سے معلوم ہوا ہے اور ان کے صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ جب میرے والد صاحب تصدیق کرتے ہیں تو مجھے بھی انکار نہیں۔(ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔روحانی خزائن۔جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 344) مخالفت کے بارے میں ہی ایک اور حوالہ ہے جو میں پڑھ دیتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ : ” میرے مقابل پر جو میرے مخالف مسلمان مجھے گالیاں دیتے ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں یہ بھی میرے لئے ایک نشان ہے۔کیونکہ انہیں کی کتابوں میں یہ اب تک موجود ہے کہ مہدی معہود جب ظاہر ہوگا تو اُس کو لوگ کا فر کہیں گے اور اُس کو ترک کر دیں گے اور قریب ہوگا کہ علمائے اسلام اُس کو قتل کر دیں۔چنانچہ ایک جگہ محمد والف ثانی صاحب بھی یہی لکھتے ہیں اور شیخ مجی الدین ابن العربی صاحب نے بھی ایک مقام میں یہی لکھا ہے۔سو اس میں کچھ ۴۱