خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 36
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسا مہدی آنا چاہیے جو جہاد کا فتویٰ دے اور انگریزوں اور دوسری غیر قوموں سے لڑائی کرے۔میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے اور حدیث سے بھی پایا جاتا ہے کہ آنے والا موعود يَضَعُ الْحَزب کر کے دکھائے گا۔یعنی لڑائیوں کو موقوف کرے گا۔دیکھو ہر چیز کے عنوان پہلے ہی سے نظر آ جاتے ہیں جیسے پھل سے پہلے شگوفہ نکل آتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہوتا کہ مہدی آکر جہاد کرتا اور تلوار کے زور سے اسلام کی حمایت کرتا تو چاہیے تھا کہ مسلمان فنون حربیہ اور سپاہ گری میں تمام قوموں سے ممتاز ہوتے اور فوجی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی۔مگر اس وقت یہ طاقت تو اسی قوم کی بڑھی ہوئی ہے اور فنونِ حرب کے متعلق جس قدر ایجادات ہو رہی ہیں وہ یورپ میں ہورہی ہیں نہ کسی اسلامی سلطنت میں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے اور يَضَعُ الْحَزبِ کی پیشگوئی کو پورا کرنے کے واسطے یہی ہونا بھی چاہیے تھا۔دیکھو مہدی سوڈانی وغیرہ نے جب مخالفت میں ہتھیار اٹھائے تو خدا تعالیٰ نے کیسا ذلیل کیا یہاں تک کہ اس کی قبر بھی کھدوائی گئی اور ذلت ہوئی اس لیے کہ خدا کے منشاء کے خلاف تھا۔مہدی موعود کا یہ کام ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو اسلام کو اس کی اخلاقی اور علمی و عملی اعجازات سے دلوں میں داخل کرے گا اور اس اعتراض کو دور ۳۶