خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 31

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور اَمَكُمْ مِنْكُمْ صاف موجود ہے۔یہ جواب سوال مقدر کا ہے۔یعنی جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حکم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہوسکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیوں کر رہے گا۔اس کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امتی ہوگا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا“۔فرمایا کہ: ”اگر حدیث میں یہ مقصود ہوتا کہ عیسی با وجود نبی ہونے کے پھر امتی بن جائے گا تو حدیث کے لفظ یوں ہونے چاہیئے تھے إِمَامُكُمُ الَّذِي يَصِيْرُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ نَبوَتِهِ۔یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد میری امت میں سے ہو جائے گا۔چنانچہ مسیح کے مقابل پر جو مہدی کا آنا لکھا ہے اس میں بھی یہ اشارات موجود ہیں کہ مہدی بروز کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہو گا۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کا خلق میرے خلق کی طرح ہوگا۔اور یہ حدیث کہ لا مَهْدِئَ إِلَّا عِیسَی ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہوگا اور دونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت کی اس میں جمع ہوں گی۔یعنی اس وجہ سے کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے۔٣١