خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 30

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء لکھا ہے کیونکہ درحقیقت وہ امتی ہے۔اس لیے نادان علماء کو دھو کہ لگا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی ٹھہرا دیا حالانکہ ہمارے دعوئی پر یہ ایک نشان تھا کہ مسیح موعود امت میں سے ہوگا۔فرمایا: مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت وہ خدا تعالیٰ کے علم میں نبی نہیں ہوں گے۔اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں وہ نبی ہوں گے تو وہی اعتراض لازم آیا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی دنیا میں آگیا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا استخفاف اور نص صریح قرآن کی تکذیب لازم آتی ہے۔قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے۔نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِ ہی میں بھی نفی عام ہے۔پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمد ا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنامان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہو گی۔افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں (جو حدیث کی دو کتابیں ہیں) ” فقرہ