خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 3
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ آج کل جماعت احمدیہ کی مخالفت کا ایک اور دور بڑی شدت کے ساتھ جاری ہے لیکن اس کی ہمیں فکر نہیں کیونکہ الہی جماعتوں کی مخالفت جب شدت اختیار کرتی ہے تو فضل الہی بھی بڑھ کر برسنا شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور ان کی جماعتوں کی یہی سنت بتائی ہے۔فرمایا اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ (البقرة : 215) کیا تم سمجھتے ہو کہ باوجود اس کے کہ تم پر ان لوگوں کی سی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے تم جنت میں داخل کیے جاؤ گئے۔پھر فرمایا مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَاءُ وَ زُلْزِلُوا ( البقرة : 215) انہیں تنگی بھی پہنچی تکلیف بھی پہنچی ، اور مخالفت کی شدت اس قدر تھی کہ وہ ہلا کر رکھ دیئے گئے۔اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں اور ان کی جماعت کو خود کھڑا کر کے پھر انہیں ضائع نہیں کرتا۔پھر کیا وجہ ہے کہ وہ مشکلات اور مصائب میں اس قدر ڈال دیئے جاتے ہیں کہ وہ ہل کر رہ جائیں۔اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ مخالفین کی مخالفت مومنین کو اس کے حضور مزید جھکنے والا بنائے ، ان کو دعاؤں کی طرف مزید توجہ پیدا ہو، ان کے خدا تعالیٰ سے تعلق میں مزید جلا پیدا ہو اور اس حالت میں