خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 38
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء چکے تھے کہ مہدی اور مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ہے۔اب ان کے دلوں کو کیا ہو گیا۔وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرَوْا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ (البقرة : 90) مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے۔کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہی فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے اور ایسا جوش دکھلا ئیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کر ڈالتے۔مگر خدا کی شان ہے کہ ان ہزاروں میں سے یہ میاں غلام فرید صاحب چاچڑاں والوں نے پر ہیز گاری کا نور دکھلایا۔۔وو ان کے بارے میں فرمایا کہ۔۔۔۔۔وَذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُوتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ۔خدا ان کو اجر بخشے اور عاقبت بالخیر کرے۔آمین۔فرمایا کہ اب جب تک یہ تحریریں دنیا میں رہیں گی میاں صاحب موصوف کا ذکر باخیر بھی اس کے ساتھ دنیا میں کیا جائے گا۔یہ زمانہ گزر جائے گا اور دوسرا زمانہ آئے گا اور خدا اس زمانے کے لوگوں کو آنکھیں دے گا اور وہ ان لوگوں کے حق میں دعاء خیر کریں گے جنہوں نے مجھے پا کر میرا ساتھ دیا ہے۔سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ وقت گزر جائے گا اور ہر ایک غافل اور منکر اور مکذب وہ حسرتیں ساتھ لے جائے گا جن کا تدارک پھر اس کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔اب ۳۸