خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 32
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى (الضحی : 8) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کی طرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے۔اور حضرت عیسی نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔غرض اسی لحاظ سے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی استاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی استاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو افرغ کہا۔یعنی پڑھ۔اور کسی نے نہیں کہا۔اس لیے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی ہوئے۔سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا۔سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے۔کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔بس یہی مہدویت ہے جو نبوت محمدیہ کے منہاج پر مجھے حاصل ہوئی ہے اور اسرار دین بلا واسطہ میرے پر کھولے گئے۔اور جس طرح مذکورہ بالا وجہ سے آنے والا مہدی کہلائے گا اسی طرح وہ مسیح بھی کہلائے گا ۳۲