خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 12

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء آئے گا۔بجز ان لوگوں کے جو شقی از لی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لیے پیدا کیے گے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ” قرآن شریف کے اس میں الفاظ یہ ہیں ونُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا (الكهف: 100 ) اور یہ بات کہ وہ نفخ کیا ہو گا؟ اور اس کی کیفیت کیا ہوگی؟ اس کی تفصیل وقتا فوقتا خود ظاہر ہوتی جائے گی۔مجملاً صرف اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ استعدادوں کو جنبش دینے کے لیے کچھ آسمانی کارروائی ظہور میں آئے گی اور ہولناک نشان ظاہر ہوں گے۔تب سعید لوگ جاگ اٹھیں گے کہ یہ کیا ہوا چاہتا ہے۔کیا یہ وہی زمانہ نہیں جو قریب قیامت ہے جس کی نبیوں نے خبر دی ہے۔اور کیا یہ وہی انسان نہیں جس کی نسبت اطلاع دی گئی تھی کہ اس امت میں سے وہ مسیح ہو کر آئے گا جو عیسی بن مریم کہلائے گا۔تب جس کے دل میں ایک ذرا بھی سعادت اور رُشد کا مادہ ہے خدا تعالیٰ کے غضبناک نشانوں کو دیکھ کر ڈرے گا اور طاقت بالا اس کو کھینچ کر حق کی طرف لے آئے گی۔اور اس کے تمام تعصب اور کینے یوں جل جائیں گے جیسا کہ ایک خشک تنکا بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑ کر بھسم ہو جاتا ہے۔غرض اس وقت ہر ایک رشید خدا کی آواز سن لے گا اور اس کی طرف کھینچا جائے گا اور دیکھ لے گا کہ زمین اور آسمان دوسرے رنگ میں ہیں۔۱۲