خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 376

خلیج کا بحران — Page 6

۶ ۳ راگست ۱۹۹۰ء یہ عراق اور کویت کی لڑائی کا جو واقعہ ہے یا عراق کے کویت پر حملے کا ، اس کے پس منظر میں بہت سی بددیانتیاں اور عہد شکنیاں ہیں ، صرف عربوں کے آپس کے اختلاف نہیں ہیں بلکہ تیل پیدا کرنے والے دوسرے اسلامی ممالک بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔چنانچہ انڈونیشیا ہے مثلاً ، اس کو اپنے عرب مسلمان بھائیوں سے شدید شکوہ ہے کہ Opec کے تحت جو معاہدے کرتے ہیں ان معاہدوں کو خود بصیغہ راز توڑ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اجتماعی طاقت سے جو فوائد حاصل ہونے چاہیں وہ نقصانات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ہر ملک جس طرح چاہتا ہے اپنا تیل خفیہ ذرائع سے بیچ کر زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس اس پس منظر میں بھی تقوی ہی کی کمی ہے۔یہ معاملہ صرف عراق اور کویت کی جنگ کا نہیں بلکہ آپس کے معاملات میں تقویٰ کے فقدان کا معاملہ ہے اور جو بھی عالمی ادارہ اس بات پر مامور ہو کہ وہ ان دونوں لڑنے والے ممالک یا ایک ملک نے جو حملہ کیا ہے، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل کریں ، اس کا فرض ہو گا کہ وہ تہہ تک پہنچ کر ان تمام محرکات کا جائزہ لیں جن کے نتیجے میں بار بار اس قسم کے خوفناک حالات پیدا ہوتے چلے جاتے ہی اور اس میں ایران کو بھی برابر شامل کرنا چاہئے۔کوئی مسلمان ملک اس سے باہر نہیں رہنا چاہئے۔اگر یہ ایسا کرلیں تو جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تائید تمہیں حاصل ہوگی اور لازما تم ان کوششوں میں کامیاب ہو گے۔پھر تاکیداً فرمایا : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اپنے بھائیوں کے درمیان، جو آپس میں بھائی بھائی ہیں صلح کرواؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تقویٰ اختیار کرنے والوں پر رحم کیا جاتا ہے۔پس کوئی مسئلہ بھی جو اسلام سے یا قرآن سے تعلق رکھتا ہو تقوی کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔مسلمانوں کے مسائل کا بنیادی تجزیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام مسلمانوں کے مسائل کا مختصر تجزیہ لیکن ایسا