خلیج کا بحران — Page 59
۵۹ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء ہوں گے اور اُبھارے جائیں گے اور اُن کا تعلق ایک دوسرے سے عدم اعتما داور ایک دوسرے کا حسد ہے۔اب جرمنی ہے مثلاً وہ یورپ میں بہت بڑی قوت بن کر اُبھرنے والا ہے اور جرمنی سے جہاں تک خدشات کا تعلق ہے بعض تو میں اس بارے میں زبان نہیں کھول رہیں۔لیکن اندرونی طور پر ممکن ہے اُن قوموں میں بھی خدشات کا احساس پیدا ہو چکا ہو لیکن جہاں تک انگلستان کا تعلق ہے انگلستان تو بار باران خدشات کا اظہار کر رہا ہے کہ جرمنی بہت بڑی طاقت بن کر اُبھر جائے گا اور پھر ہو سکتا ہے ماضی کی طرح وہ تمام غلطیاں دہرائے جن غلطیوں کے نتیجے میں ایک عالمگیر جنگ رونما ہوئی تھی۔چنانچہ ابھی کچھ عرصہ پہلے جو کیبنٹ میں ایک نائب وزیر نے استعفیٰ دیا تھاوہ اسی موضوع پر دیا تھا، اسی مسئلے پر دیا تھا۔جرمنی جا کر اُنہوں نے ایسے خیالات کا اظہار کر دیا جو پہلے جرمنی کے نزدیک در حقیقت انگلستان کی کیبنٹ کی باتیں تھیں لیکن اُس نے اپنی طرف سے ان کو ظاہر کیا اور جہاں تک کیبنٹ کا تعلق ہے انہوں نے اُس سے نہ صرف قطع تعلقی کا اظہار کیا بلکہ اگر وہ کہتا ہے میں حق پرست تھا اُس حق پرست کو استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بار بار اس قسم کی آواز میں اُٹھائی جارہی ہیں۔ابھی حال ہی میں سویڈن میں ایک انگریز دانشور مسٹر اینتھنی برگس (Mr۔Anthony Burgiss) کا ٹیلی ویژن پر انٹر ویو ہوا اور غالبا اخباروں میں بھی اُن کا کوریج ہوا وہ ایک انگریز دانشور کے طور پر وہاں متعارف کروائے گئے اور تعارف یہ کروایا گیا کہ ان کو اسلام کا بہت گہرا علم ہے اور بڑے وسیع اور دیرینہ تعلقات ان کے مسلمان ممالک سے رہے ہیں اور بلکہ یہ وہاں لمبا عرصہ ٹھہر کر بھی آئے ہیں۔یہاں تک ان کو اسلام کا علم سیکھنے کا شوق تھا کہ شدید خطرہ تھا کہ یہ مسلمان ہی نہ ہو جائیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس جہالت سے بچالیاوہ گویا اس رنگ میں ان کو پیش کیا جارہا تھا کہ وہ آخری مقام پر پہنچ کر پھر ان پر وہ باتیں کھل گئیں کہ یہ واپس آگئے اور اب ہم آپ کے سامنے ایک ایسے دانشور کے طور پر پیش کرتے ہیں جو مسلمانوں کی سیاست سے بھی واقف ہیں اور اسلام کی کنہ سے بھی واقف ہیں۔یہ تھا دراصل اُن کے یورپ میں جانے اور مختلف مواقع پر اپنے