خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 376

خلیج کا بحران — Page 342

۳۴۲ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کر اپنے مزدوروں کے حق دلوائیں گے۔اسی طرح توازن پیدا ہو جائیں گے اور توازن کے نتیجے میں امن پیدا ہوتا ہے کیونکہ توازن ہی عدل کا دوسرا نام ہے جس کو قرآن کریم نے میزان بھی قرار دیا ہے۔پس امن بڑی قوموں کے طاقتور بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں یا صدروں کے تحکمات سے تو قائم نہیں ہوا کرتا۔امن تو لا ز ما توازن کے نتیجے میں قائم ہوگا اور توازن عدل سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس تمام عالمی سیاست میں نئے توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس عہد کی ضرورت ہے کہ ہماری ہرا نجمن ہمارا ہر اتحاد عدل کی بالا دستی کے اصول پر قائم ہوگا۔پس یہ جتنی انجمنوں کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں یہ بنیادی شرط ہونی چاہئیے کہ ہر شامل ہونے والا ملک یہ عہد کرے کہ میں عدل کی بالادستی کو تسلیم کرتا ہوں ، اپنے مفادات کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کرتا اور پھر ایسے انتظام ہونے چاہئیں کہ عدل کی بالا دستی کا واقعی کوئی نہ کوئی ذریعہ پیدا کیا جائے اور جو عدل کا احترام نہیں کرتا اس کو اس نظام سے الگ کر دیا جائے۔تیسری دنیا کے لئے ایک نئی یونائیٹڈ نیشنز کی ضرورت پس ایک اور بڑی اہم بات ہے کہ خلیج کی جنگ اور اس کے دوران ہونے والے واقعات نے تیسری قوموں کو ایک اور سبق بھی دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے یعنی جہاں تک تیسری دنیا کے مفادات کا تعلق ہے اقوام متحدہ کا نظام بالکل بوسیدہ اور ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے لائق بن چکا ہے جب تک روس کے ساتھ امریکہ کی مخالفت تھی یا رقابت تھی اس وقت تک اقوام متحدہ کے نظام میں غریب ملکوں کو تباہ کرنے کی ایسی صلاحیت موجود نہیں تھی کیونکہ امریکہ بھی ویٹو کر کے کسی غریب ملک کی حفاظت کر سکتا تھا اور روس بھی ویٹو کر کے کسی غریب ملک کی حفاظت کر سکتا تھا فیصلہ صرف اس بات پر ہوتا تھا کہ امریکہ کا دوست غریب ملک ہے یا روس کا دوست غریب ملک ہے۔اب تو ساری دنیا میں کسی غریب ملک کو سہارا دینے کے لئے کوئی باقی نہیں رہا۔اتفاق نیکی پر نہیں ہوا ا تفاق بدی پر ہو چکا ہے۔