خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 376

خلیج کا بحران — Page 307

۳۰۷ یکم مارچ ۱۹۹۱ء جاتے ہیں اور ساتھ ہی ملاں کے ان تین اصولوں کو تسلیم بھی نہیں کیا جاتا۔یہ سیاستدان کا دوسرا جرم ہے۔جانتے بوجھتے ہوئے کہ اسلام کا نظام عدل اس قسم کی لڑائیوں کی تلقین نہیں کرتا جس قسم کی لڑائیوں کو ملاں جہاد قرار دیتا ہے۔جب بھی کوئی ملکی خطرہ در پیش ہو اور سیاسی جنگ سامنے ہو تو خودملاں سے کہہ کر اور اس کے ہم آواز ہو کر عوام کو جہاد کے نام پر بلانے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا ان قوموں سے مزید متنفر ہو جاتی ہے اور دل میں یقین کر لیتی ہے کہ ان کے سیاست دان ظاہری طور پر تو یہی کہتے ہیں کہ اسلام کے جہاد کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تلوار کے زور سے نظریات کو پھیلاؤ یا ہرلڑائی میں خدا کا نام استعمال کرو مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو ہمیشہ اسی تصور کا سہارا لیتے ہیں بار بار ہر جگہ ایسے ہوتا ہے اور ہوتا چلا آیا ہے۔میں نے جہاں تک اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے آنحضرت ﷺ کے مقدس دور کے بعد اگر مسلمان ملکوں کی لڑائیوں پر نظر ڈالیں تو آپ حیران ہوں گے کہ تمام لڑائیاں جہا د مقدس تھیں۔ایک بھی لڑائی مسلمانوں نے نہیں لڑی خواہ وہ غیروں کے ساتھ لڑی ہو یا اپنوں کے ساتھ لڑی ہو۔خواہ وہ سنی سنی کے درمیان ہو یا شیعہ شیعہ کے درمیان ہو یا شیعہ سنی کے درمیان ہو جو اس وقت کے علماء اور ان کے سیاستدانوں کے نظریوں کے مطابق جہاد مقدس نہ ہو۔عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے سوا کوئی لڑائی پیش نہیں آتی۔ساری دنیا کی قو میں سیاسی لڑائیاں لڑتی ہیں۔ان کو ہر قسم کی لڑائیوں کے سامنے کرنے پڑتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے صرف جہاد ہی رہ گیا ہے اور اس جہاد کی تاریخ میں بھاری حصہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کا ہے اور ایک دوسرے کو جہاد کے نام پر قتل وغارت کیا گیا ہے۔پس یہ تمسخر تو المیہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ایک دردناک المیہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔اب اس المیہ کو ختم ہونا چاہئے دنیا کی نظر سے دیکھیں تو اس زمانے کا سب سے بڑا تمسخریہ نظریہ ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں جسے اسلام کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے اور اگر اندرونی مسلمان کے دل کی نظر سے دیکھیں تو ایک انتہائی دردناک اور ہولناک المیہ ہے جو تیرہ سوسال سے ہمارا پیچھا