خلیج کا بحران — Page 7
L ۳ راگست ۱۹۹۰ء تجز یہ جو تمام حالات پر حاوی ہو یوں فرمایا کہ تقویٰ کی راہ گم ہوگئی ہے۔اسلام کا نام تو ہے لیکن تقویٰ کا راستہ باقی نہیں رہا۔وہ ہاتھ سے کھویا گیا ہے۔جب تقویٰ کی راہ گم ہو جائے تو پھر جنگلوں اور بیابانوں میں بھٹکنے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔پس میں جماعت احمدیہ کے سربراہ کے طور پر اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو خواہ وہ ہمیں بھائی سمجھیں یا نہ سمجھیں ، یہ پر زور اور عاجزانہ نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے کی امت کو شدید خطرات درپیش ہیں۔تمام عالم اسلام کی دشمن طاقتیں آپ کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دخل اندازی کے بہانے ڈھونڈتی ہیں اور ایک لمبا عرصہ ہوا کہ آپ ان کے ہاتھ میں نہایت ہی بے کس اور بے بس مہروں کی طرح کھیل رہے ہیں اور ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچارہے ہیں۔اس لئے تقوی کو پکڑیں اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی امت کو جو آج دنیا میں ذلت کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور تمسخر کا سلوک ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے ، تمام دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بڑی حقارت سے عالم اسلام کو دیکھتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ ہمارے ہاتھوں میں اسی طرح ہیں جس طرح بلی کے ہاتھوں میں چوہا ہوا کرتا ہے اور جس طرح چاہیں ہم ان سے کھیلیں اور جب چاہیں سوراخ میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اس کو دبوچ لیں۔یہ وہ معاملہ ہے جو انتہائی تذلیل کا معاملہ ہے۔نہایت ہی شرمناک معاملہ ہے اور عالم اسلام پر داغ پر داغ لگتا چلا جارہا ہے۔اسلام کی عزت اور وقار مجروح ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے خدا کا خوف کریں اور اسلام کی تعلیم کی طرف واپس لوٹیں اس کے سوا اور کوئی پناہ نہیں ہے۔بار بار نازل ہونے والے مصائب کی وجہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ادبار اور تنزل کا دور اور یہ بار بار کے مصائب حقیقت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کا نتیجہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور آخری پیغام میرا یہی ہے کہ وقت کے امام کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔خدا نے جس کو بھیجا ہے اس کو قبول