خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 376

خلیج کا بحران — Page 65

۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء جائے گا اور جہاں تک مغربی تیل کی بڑھی ہوئی قیمت کا منافع ہے وہ پہلے ہی ان کی جیب میں موجود رہے گا۔اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ ہو چکا ہے کہ صرف یہ سوال نہیں ہے کہ کویت واپس لیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ صدام حسین کی تمام بڑھتی ہوئی طاقت کو ہر پہلو سے ہر جگہ کچل دیا جائے گا۔اسی لئے آپ نے ایک شاخسانہ سُنا ہوگا کہ کہہ رہے ہیں کہ صرف کیمیاوی جنگ کی صلاحیت نہیں ہے صدام حسین کو بلکہ بائیولاجیکل وارفیئر Biological Warfare کی صلاحیت بھی ان کے اندر موجود ہے اور انہوں نے ایسے جراثیم پر قدرت پالی ہے، ایسے جراثیم کو محفوظ طریقے پر بڑھا کر بموں کی شکل میں دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کے ذرائع اُن کو مہیا ہو چکے ہیں اور ٹیکنالوجی حاصل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں بہت ہی خطرناک جراثیم غیر قوموں میں پھیلائے جاسکتے ہیں اور اُس کے لئے پیش بندی کرنا بہت مشکل کام ہے۔مثلاً اینتھر کس ہے ایک ایسا جرثومہ ہے جس کے نتیجے میں جلد پر خوفناک قسم کے پھوڑے بھی نکلتے ہیں، خون میں Poisining ہو جاتی ہے اور بہت ہی درناک حالت میں موت واقع ہوتی ہے۔ایتھر کس کو جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کرنے کی ایجا داگر چہ مغرب ہی کی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی عراق کو بھی حاصل ہو چکی ہے۔اسی طرح ٹائیفائیڈ ہے کالرا ہے اسی قسم کے اور بہت سی مرضیں ہیں جن سے خود حفاظتی کے لئے اگر چہ ٹیکے ایجاد ہو چکے ہیں لیکن مغربی مفکرین یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ عراق ان کو آپس میں ملا کر ایسی خوفناک پوشنز (Potions) یا ملی جلی جس طرح کہ ادویات ہوتی ہیں اُن کا ایک مرکب کہہ لیں ہمجون کہہ لیں یعنی مختلف جراثیم کے مرکبات اور معجونیں بنا کر اُن کو یہ دنیا میں پھیلا دیں گے اور یہ ناممکن ہے کہ ہر ایک کے لئے خود حفاظتی کی اور دفاعی کا رروائی کی جاسکے۔اب جہاں تک میر اعلم ہے ابھی تک چند دن سے پہلے یہ باتیں دنیا کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں نہ کبھی عراق کی طرف سے ایسی دھمکی دی گئی تھی۔عراق نے جب بھی دھمکی دی ہے کیمیاوی جنگ کی دھمکی دی ہے لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دنیا کی رائے عامہ پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کی خاطر