خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 376

خلیج کا بحران — Page 34

۳۴ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء کچھ اور وجہ ہے جس کی بناء پر یہ صورتحال سلجھنے کی بجائے مسلسل الجھتی چلی جارہی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس تمام بے چینی کی جڑ اسرائیل ہے اگر چہ ہر لڑائی کے بعد مغرب نے اس کا ایک تجزیہ پیش کیا اور یہ بتایا کہ مشرق وسطی کے لوگوں کی کیا غلطی تھی ان کے راہنماؤں کا کیا قصور تھا جس کے نتیجے میں یہ سب نقصان پہنچے ہیں لیکن کبھی بھی انہوں نے مرض کی جڑ نہیں پکڑی اور اپنے طرز عمل میں اصلاح کی طرف کبھی توجہ پیدا نہیں کی۔مثال کے طور پر اس سے پہلے جنرل ناصر کے اوپر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ عبد الناصر ایک پاگل شخص ہے یہ اپنا توازن کھو بیٹھا ہے۔اس کو علم نہیں کہ اس کے مقابل پر طاقتیں کتنی غالب ہیں اور ان کے مقابل پر اس کی یا اس کے ساتھیوں کی ،سارے عربوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔جتنی دفعہ یہ جنگ کو جائے گا ہر بار ہزیمت اٹھائے گا اور پہلے سے بدتر حال کو پہنچے گا اس لئے مغربی دنیا کے تجزئے کے مطابق ایک پاگل را ہنما اٹھا جس نے اپنے جوش کی وجہ سے تمام قوم کے دل جیت لئے مگر ہوش سے عاری تھا اس لئے ان کی ہوش کے لئے اس نے کوئی چارہ نہ کیا۔نتیجہ اس کا ہر اقدام جو اس نے اپنے دشمن کے خلاف کیا بالآخر اسی پر اور اس کے ساتھیوں پر الٹا اور ہر بار جب اس کا مقابلہ غیروں سے ہوا تو نہ صرف یہ کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کچھ کھویا اور مسلسل کھوتا چلا گیا۔یہی حال کچھ عرصے تک اس کے پیچھے آنے والے دوسرے راہنماؤں کا رہا۔پس پہلے دور کا تجزیہ یہ مغرب کے نزدیک مسلمانوں، عربوں میں سے اٹھنے والا ایک جوشیلا پاگل لیڈر تھا اور یہی تجزیہ اب صدام حسین کے بارہ میں پیش کیا جا رہا ہے اور تمام دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جارہی ہے کہ لو ایک اور پاگل لیڈر ا ٹھا ہے۔ایسا پاگل لیڈر جس کی بنیادیں صرف ” ناصریت یعنی جنرل ناصر کے نظریات اور اس کے رویے پر ہی مبنی نہیں بلکہ ہٹلر میں بھی پیوستہ ہیں اور ہٹلریت میں پیوستہ ہیں جسے نائسی ازم ( Natsizm) بھی کہا جاتا ہے۔اصل نام تو نائسی ازم ہے لیکن اس کا Symbol بن کر ھٹلر ابھرا تھا اس لئے ھٹلرانہ طرز عمل بھی اسے کہا جاتا ہے۔تو یہ آج کل مغربی دنیا میں ٹیلویژن وغیرہ کے اوپر بکثرت ہٹلر کے دور کی فلمیں