خلیج کا بحران — Page 345
۳۴۵ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء دی جائے کہ کوئی فریق اپنے قضیوں کو حل کرنے کے لئے ترقی یافتہ قوموں کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور انہیں اپنے قضیے نبٹانے میں دخل کی اجازت نہیں دے گا۔مجلس اقوام متحدہ کے تضادات جو موجودہ United Nations ہے اس میں کئی قسم کے اندرونی تضادات بھی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے تاکہ نئی انجمنوں میں ایسے تضادات پیدا نہ ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ یہ عجیب ظالمانہ قانون ہے کہ اگر ساری دنیا میں امریکہ روس ، چین وغیرہ پانچ ملکوں میں سے صرف ایک ملک کسی ملک پر ظلم کرنے کا فیصلہ کر لے تو جس پر چاہے اس پر حملہ کروا دے۔اس کے لئے عالمی طاقتوں کو جوابی کاروائی کا کوئی حق حاصل نہیں ہو سکتا جب تک سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممالک میں سے ایک ملک اس بات پر قائم رہتا ہے کہ میں کسی کو اس ملک کے خلاف جوابی کارروائی کی اجازت نہیں دوں گا۔اس کا نام ویٹو ہے۔یہ فیصلہ آج تک نہیں ہوا کہ یونائیٹڈ نیشنز یا سیکیورٹی کونسل کی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ عدلیہ ہے؟ اگر یہ عدلیہ ہے تو پھر بین الاقوامی عدالت کی کیا ضرورت ہے اگر یہ عدلیہ نہیں ہے تو جھگڑوں میں فیصلہ کرتے وقت یہ کیسا فیصلہ کر سکتے ہیں ؟ اور پھر عدلیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس فیصلے کو بزور نافذ کرنے کا اختیار بھی ان کو نہیں ہوسکتا اور اگر عدلیہ ہے تو ان کے عدل کا اثر کہاں کہاں تک جائے گا ؟ وہ تو میں جو ان کی ممبر نہیں ہیں ان پر بھی پڑے گا کہ نہیں؟ یہ ایک اور سوال ہے جو اس کے نتیجے میں اٹھتا ہے۔۔پھر اگر یہ محض ایک مشاورتی ادارہ ہے تو فیصلوں کو بزور نافذ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا ایسی صورت میں محض اسی حد تک اخلاقی دباؤ کا ضابطہ طے ہونا چاہئے جس کا سب قوموں کے خلاف برابر اطلاق ہو سکے۔اور اگر یہ محض تعاون کا ادارہ ہے تو تعاون کس طرح لیا جائے اور کون کون سے ذرائع اختیار