خلیج کا بحران — Page 344
۳۴۴ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس میں مذہبی تعصبات کو بیچ میں سے نکالنا ہوگا۔اس لئے ایک مشورہ میرا یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک اگر چہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کے تعلق رکھیں خاص بھائی چارے کے نتیجے میں ذمہ داریاں ادا کریں لیکن مسلمان تشخص کو غیر مسلم تشخص سے لڑا ئیں نہیں۔اگر Polarization یعنی یہ تقابل باقی رہا کہ مسلمان ایک طرف اور غیر مسلم ایک طرف تو خواہ غیر مسلم کہتے وقت آپ دماغ میں صرف مغربی طاقتیں رکھتے ہوں لیکن جاپان بھی غیر مسلم ہے، کوریا بھی غیر مسلم ہے، ویت نام بھی غیر مسلم ہے ہندوستان بھی غیر مسلم ہے۔غرضیکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ہیں۔وہ مجھتی ہیں کہ پیغام ہمیں بھی پہنچ گیا ہے۔اس لئے نہایت ہی جاہلانہ خود کشی والی پالیسی ہے کہ مسلمان کے تشخص کو غیر مسلم کے تشخص سے لڑاویں اور اس کے نتیجے میں کچھ بھی حاصل نہ کریں اور جو کچھ حاصل ہے وہ کھو دیں۔پس دنیا میں تیسری دنیا کے اتحاد قائم ہو ہی نہیں سکتے جب تک قرآن کریم کی تعلیم تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوی پر عمل نہ کیا جائے اور اس تعلیم میں مذہبی اختلاف کا ذکر ہی کوئی موجود نہیں۔اس تعلیم کی رو سے مشرک سے بھی اتحاد ہوسکتا ہے یہودی سے بھی ہو سکتا ہے ، عیسائی سے بھی ہو سکتا ہے، دہریہ سے بھی ہوسکتا ہے۔مذہب کا کوئی ذکر ہی نہیں البر اور تقویٰ ہونا چاہئے۔ہراچھی بات پر تعاون کرو۔پس تعاون کے اصول کے اوپر ان قوموں کے ساتھ وسیع تر اتحاد پیدا کرنا اور اس کے نتیجے میں ایک نئی United nations of poor nations کا قیام انتہائی ضروری ہے اب ضرورت ہے کہ دنیا کی غریب قوموں کی ایک متوازی اقوام متحدہ کی بنیاد ڈالی جائے جس کے منشور میں محض اسی حد تک اختیارات درج ہوں جس حد تک ان کے نفاذ کی اس انجمن کو طاقت ہو اور ہر ممبر ملک کے لئے اس عہد نامہ پر دستخط کرنے ضروری ہوں کہ وہ اس ادارے سے منسلک رہتے ہوئے ہر حالت میں عدل کی بالا دستی کو تسلیم کرے گا۔تیسری دنیا کے الجھے ہوئے معاملات اور قضیوں کو حل کرنے کے لئے اسی ادارہ کی سر پرستی میں دوطرفہ گفت و شنید کا منصفانہ اور موثر نظام قائم کیا جائے اور کمزور قوموں میں اس رجحان کو تقویت