خلیج کا بحران — Page 340
۳۴۰ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی نئی تنظیم کی ضرورت ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اسی طرح یہ ضروری ہے کہ بعض تیل پیدا کرنے والے ملک بھی ایک نئی او پیک (Opec) کی بنیاد ڈالیں یعنی ایسی او پیک جس میں امریکہ کے وفادار غلاموں کو شامل نہ کیا جائے۔امریکہ سے تعاون کرنے والے بے شک شامل کئے جائیں کیونکہ ہمارا اصول یہ ہے ہی نہیں کہ مخالفت کی خاطر کوئی اتحاد قائم کئے جائیں۔قرآن نے کہیں اس کا ذکر نہیں فرمایا۔اتحاد نیکی پر ہونا چاہئے مگر کسی ملک کا اگر بڑی طاقتوں کے ساتھ بے اصولی پر اتحاد ہو چکا ہو اور ان کا یہ اتحاد قیام عدل کے لئے خطرہ بن جائے تو اس کے نتیجے میں غریب ممالک کے مفادات قربان کر دیئے جاتے ہیں پس لازم ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بعض ممالک اپنے دفاع کی خاطر نیا اتحاد کریں۔مثلاً ایران ہے عراق ہے۔نائیجیریا انڈونیشیا ملائیشیا، سبا وغیرہ ہیں اسی طرح جن دوسرے ملکوں میں جہاں کسی حد تک تیل ملتا ہے وہ آپس میں اکٹھے ہو کر اپنی ایک او پیک بنائیں اور اگر یہ مشترکہ طور پر اپنی Policies طے کریں گے تو ان کے اوپر اس طرح ظلم کے ساتھ مغربی دنیا کی Policies کو مسلطا نہیں کیا جاسکتا جس طرح عراق پر مسلط کر کے اسے غیر منصفانہ طرز عمل پر مجبور کر دیا گیا۔سعودی عرب اور کویت وغیرہ کچھ عرصے تک اپنی زیادہ تیل کی قوت کے نتیجے میں اس نئی او پیک کو کچھ مجبور کر سکتے ہیں مگر اپنی دھن اور اصولوں پر اگر یہ قائم رہیں تو تھوڑی دیر کے بعد دباؤ کا یہ کھیل ختم ہو جائے گا۔پھر آپ دیکھیں گے کہ اس کے بہت مفید نتائج ظاہر ہوں گے۔تیسری دنیا کے وہ ممالک جن میں تیل نہیں ہے ان کو بھی اپنی ایک متحدہ بے تیل کے ملکوں کی انجمن بنانی چاہئے کیونکہ جب بھی دنیا میں کسی قسم کے فسادات ہوتے ہیں ، ہنگامے ہوتے ہیں۔جنگیں ہوتی ہیں تو یہی بیچارے ممالک ہیں جو غریب سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں پس اپنے تحفظات کے لئے ان کو اکٹھے ہو جانا چاہئے اور تیل والے ملکوں سے کچھ لمبے سمجھوتے کرنے چاہئیں تا کہ گزشتہ تجارب کی روشنی میں آئندہ کے احتمالات سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہو سکے۔