خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 376

خلیج کا بحران — Page 308

۳۰۸ یکم مارچ ۱۹۹۱ء نہیں چھوڑ رہا۔اس لئے اگر اپنی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو اپنے خیالات اور اپنے رجحانات اور اپنے اعمال میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔جب تک مسلمانوں کی سوچ میں انقلاب بر پا نہیں ہوتا اس وقت تک وہ دنیا میں کوئی انقلاب بر پا کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔بغیر تیاری کے جہاد کی بے معنی پکار اور پھر ظلم پر ظلم یہ کہ اس جہاد کے نظریے پر یقین رکھتے ہوئے جہاد کی تیاری کوئی نہیں۔قرآن کریم نے تو یہ تعلیم دی تھی وَاَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ دج رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُقَ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُوْنَهُمُ اللهُ يَعْلَمُهُمُ (الانفال: ۲۱) کہ اے مسلمانوں اپنی خود حفاظتی کے لئے تیار رہو اور خوب تیاری کرو ہر ایسے دشمن کے خلاف جو تم پر کسی وقت بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ہر قسم کے میدان میں اپنے سواروں کے ذریعے اور پیدلوں کے ذریعے ان سے مقابلے کے لئے ایسے تیار ہو جاؤ کہ ان پر دور دور تک تمہارا رعب پڑ جائے اور کسی کو جرات نہ ہو کہ ایسی تیار قوم پر حملے کا تصور کر سکے۔وہ صرف تمہارے ہی دشمن نہیں بلکہ پہلے اللہ کے دشمن ہیں۔عدو اللهِ وَعَدُوَّكُمْ پس تم تو اپنے دشمنوں سے غافل رہ سکتے ہو۔لیکن خدا اپنے دشمنوں سے غافل نہیں رہا کرتا لَا تَعْلَمُونَهُمْ اللهُ يَعْلَمُهُمُ ایسے حال میں بھی کہ جب تم ان سے بے خبر ہو گے خدا ان کو جانتا ہوگا۔پس اگر تم تیاری کا حکم تسلیم کر لو اور دل و جان سے اس پر عمل کرو تو خدا تمہیں خوشخبری دیتا ہے کہ تمہاری غفلت کی حالت میں بھی پردہ پوشی سے کام لے گا اور تمہیں دشمن کے حملوں سے محفوظ ر کھے گا۔یہ ہیں اسلامی جہاد کو تسلیم کرنے کے بعد اس پر عمل کا فیصلہ کرنے کے بعد مسلمانوں کی ذمہ داریاں جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں ان پر کہاں عمل ہو رہا ہے۔حالت یہ ہے کہ جتنے مسلمان ممالک ہیں یہ اسلحہ سازی میں ہر اس ملک کے محتاج ہیں جن کے خلاف مسلمان جہاد کا اعلان کرتے