خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 376

خلیج کا بحران — Page 234

۲۳۴ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء کرتے ہیں تو وہ 1905ء میں رشین زبان میں باقاعدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ابھی انگریزی میں شائع نہیں ہوئی تھی۔تو اس سے اور بھی زیادہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کو عظمت ملتی ہے اور عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔کہ ابھی یہ کتاب روسی زبان میں آئی تھی اور روس سے باہر کی دنیا کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ یہ منصوبہ کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس سے چار سال پہلے 1901ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً بتادیا کہ دنیا میں یہود کے تسلط کا کوئی منصوبہ ہے جس میں فری میسن نے اہم کردار ادا کرنا ہے اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تم پر اور تمہاری جماعت پر فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے۔ایک اور غلطی اس میں تھی جو مجھے کسی نے توجہ تو نہیں دلائی نہ وقت ملا ہے کہ پورا وقت تحقیق کرسکوں لیکن مجھے یہ غالب گمان خطبے کے بعد گذرا کہ وہ غلط کہہ گیا ہوں۔ایک بیان میں نے ڈز رائیلی کی طرف منسوب کیا تھا، خطبے کے بعد مجھے خیال آیا کہ وہ تو انیسویں صدی کے غالباً تیسرے حصے میں پہلے یہودی وزیر اعظم ہیں جو انگلستان میں وزیر اعظم کے منصب تک پہنچے تھے۔تو ان کا وہ بیان ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ بیان دینے والا بیسویں صدی کے کسی حصے میں بیان دے رہا ہوگا۔کیونکہ بیان دینے والا یہ کہتا ہے کہ یہود کہتے ہیں اس کتاب سے ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن کتاب میں جو منصو بہ بیان ہوا ہے وہ منصوبہ اسی طرح کھلتا چلا جارہا ہے جیسا کہ کتاب میں بیان کیا گیا ہے تو اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ کتاب منصو بہ بنانے والوں کی نہ ہو اور چونکہ وہ منصوبہ یہود کی مرضی کے مطابق بن رہا ہے اس لئے لازم و ہی ہوگا تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ اگر وہ نہیں تھے تو غالباً Henry Ford تھے۔Henry Fordامریکہ کے پریذیڈنٹ بھی رہے ہیں اور فورڈ کمپنی کے وہ بانی مبانی ہیں اور ان کی ساری دولت رفاہ عامہ کے کاموں وغیرہ پر خرچ ہوئی اور ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ یہودی دجل اور یہودی سازشوں کو بے نقاب کرنے پر گزرا اور غالباً ایک فاؤنڈیشن بھی انہوں نے اس غرض سے قائم کی تھی بہر حال یہ ایک ضمنی بات ہے اصل تبصرہ وہی تھا جو میں نے بیان کیا ہے اور آج اس کے بھی بہت مدت کے بعد یعنی وہ بیان غالباً 1900 ء کے پہلے دور ہاکوں میں دیا گیا تھا۔1920ء کے قریب اس کے بعد