خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 376

خلیج کا بحران — Page 201

یکم فروری ۱۹۹۱ء ۲۰۱ ان مسائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے دو ایسی باتیں ہیں جو عام طور پر انسان توقع نہیں رکھتا کہ ہوں گی لیکن ہوئی ہیں ایک بات یہ ہے کہ مشرق وسطی دنیا کا امیر ترین علاقہ ہے اور دنیا کے سارے تیل کا ۶۰ فیصد اس علاقے میں پیدا ہوتا ہے اس کے باوجود اپنی دفاع کی طاقت کے لحاظ سے دنیا کا کمزور ترین علاقہ ہے اور انڈسٹریل Growth کے لحاظ سے دنیا کا کمزور ترین علاقہ ہے۔پس یہ کیا مسئلہ ہے کیا معمہ ہے کہ جہاں دولتوں کے پہاڑ ہوں وہاں پہریدار کوئی نہ ہوں۔یہاں کسی بینک میں سونے کی کچھ ڈلیاں بھی ہوں تو حفاظت کے بڑے پکے انتظام ہوا کرتے ہیں لیکن وہاں تو واقعہ سونوں کے پہاڑ پیدا ہور ہے ہیں اور اس کے باوجود فوجی نقطہ نگاہ سے ایک خلاء کا علاقہ سمجھا جاتا ہے جو طاقت آپ دیکھ رہے ہیں اس کی اس دولت سے در حقیقت کوئی نسبت نہیں ہے جو وہاں موجود ہے تو کیوں ایسا ہورہا ہے کیوں اس علاقے کو کمزور رکھا گیا ہے جبکہ اسرائیل جو اس علاقے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جس میں تیل کی دولت نہیں ہے۔اس کو غیر معمولی طور پر طاقت ور بنایا گیا ہے۔پس جہاں مال پڑا ہے وہ حصہ کمزور ہے۔جہاں ڈاکے کا خطرہ ہے اس حصے کو طاقت دے دی گئی ہے۔ایک یہ معمہ ہے جو حل ہونے والا ہے۔دوسرا معمہ یہ ہے کہ صدر صدام نے جب Linkage کی پیش کش کی تو Linkage کی پیشکش کو کیوں رد کیا گیا جب ہم اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ کیوں اس پیش کش کو رد کیا گیا ہے جب آپ اس کو پوری طرح سمجھ جائیں گے تو پھر آخری حل کیا ہونا چاہیئے ؟ وہ بات بھی آپ کو سمجھ آجائے گی۔امریکہ نے اور اس کے اتحادیوں نے مسلسل انکار کیا کہ کویت پر قبضے کا جہاں تک تعلق ہے اس کا کوئی Linkage نہیں ہے۔صدر صدام حسین کہتے تھے کہ اس کا Link ہے اور دونوں کو اکٹھا طے کرو۔اگر یہ Link تسلیم ہو جاتا تو اس کے نتیجے میں اس مسئلے کا یہ حل بنتا کہ صدر صدام نے کویت کے علاقے میں جو جارحیت کی ہے اس علاقے کو چھوڑ کر اپنی جارحیت کے قدم کو واپس لے لے اور یہود نے ، Zionists نے جو شرق اردن کے مغربی کنارے کو غصب کیا ہے اور وہاں اس کے خلاف جارحانہ پیش قدمی کی ہے وہ اپنے قدموں کو وہاں سے واپس ہٹالے۔ایک