خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 376

خلیج کا بحران — Page 170

۲۵ / جنوری ۱۹۹۱ء جہاد کی تعریف دوسرا سوال اس دور میں جہاد کے متعلق بار بار اٹھایا جارہا ہے اور مختلف ممالک سے احمدی مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ بتائیں ہم کیا جواب دیں۔یہ لڑائی اسلامی تعریف کے مطابق جہاد یعنی Holy war ہے یا نہیں؟ اس کا جواب میں اس خطبے کے ذریعے دیتا ہوں کیونکہ ہر شخص کو خطوط میں تفصیل سے سمجھایا نہیں جاسکتا جہاں تک اسلام کے تصور جہاد کی تعریف کا تعلق ہے ،سب سے کامل تعریف سورہ حج میں پیش فرمائی گئی ہے ، اس آیت میں جس کا میں نے پہلے بھی بارہا ذکر کیا اور اس پر تبصرہ کیا اذن لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج : ۳۹) ان لوگوں کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے لڑنے والوں کے خلاف تلوار اٹھائیں ، ان کے خلاف تلوار اٹھا ئیں جنہوں نے تلوار اٹھانے میں پہل کی ہے اور کسی جائز وجہ سے نہیں بلکہ وہ مظلوم ہیں اسی طرح یہ آیت اس مضمون کو آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے اور جہاد کی اس سے زیادہ خوبصورت اور کامل تعریف ممکن نہیں ہے۔اس تعریف کو اگر ہم موجودہ صورتحال پر اطلاق کر کے دیکھیں تو ہرگز اسلامی معنوں میں یہ جہاد نہیں ہے۔ایک سیاسی لڑائی ہے اور ہر سیاسی لڑائی خواہ وہ مسلمان اور مسلمان کے مخالف کے درمیان ہو یا مسلمان اور مسلمان کے درمیان ہو وہ جہاد نہیں بن جایا کرتی۔در حقیقت بعض لوگ حق کی لڑائی کو جہاد سمجھ لیتے ہیں اور چونکہ ہر فریق یہ سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں اس لئے وہ اعلان کر دیتا ہے کہ یہ لڑائی خدا کے نام پر ہے، سچائی کی خاطر ہے،اس لئے جہاد ہے۔یہ جہاد کی ایک ثانوی تعریف تو ہوگی مگر اسلامی اصطلاح میں جس کو جہاد کہا جاتا ہے اس کی تعریف اس صورتحال پر صادق نہیں آتی۔کیونکہ یہ تعریف بنیادی منطق کے خلاف ہے کہ دونوں فریق میں سے جو حق پر ہو اس کی لڑائی قرآنی اصطلاح میں جہاد بن جائے گی۔مشرکوں کی مشرکوں سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے لڑائیاں ہوتی ہیں۔ملکوں کی ملکوں سے، کالوں کی گوروں سے، ہر قسم کی لڑائیاں دنیا میں ہورہی ہیں، ہوتی چلی آئی ہیں، ہوتی رہیں گی اور جب بھی دوفریق متصادم ہوں تو ظاہر بات ہے کہ اگر ایک فریق سو فیصدی حق پر نہیں تو کم سے کم زیادہ تر حق پر ضرور ہوگا اور یہ تو ممکن نہیں ہے، شاید