خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 376

خلیج کا بحران — Page 155

۱۵۵ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء اور کچھ مسلمان ممالک نے عراق کی تائید شروع کر دی تو ہمارے لئے اور مشکلات کھڑی ہو جائیں گی تو بہر حال جو اقدامات ایسے ہیں جن کے نتیجے میں مصیبتوں میں اضافہ ہورہا ہے، دنیا میں کوئی بھی انسانیت اور اسلام کا سچا ہمدردان اقدامات پر خوش نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر صدر صدام کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں اہل عراق کو دردناک سزائیں دی گئیں تو اس پر خوش ہونا مسلمان تو کیا ایک معمولی ادنی انسان کو بھی زیب نہیں دیتا لیکن ساتھ ہی جب آپ ٹیلی ویژن پر وہ تصویر میں دیکھتے ہیں جن میں بے کار بیٹھے ہوئے امیر ، بھری ہوئی تجوریوں کے مالک کویتی اور سعودی کانوں کے ساتھ ریڈیو لگائے بیٹھے ہوئے عراق کی تباہی کی خبروں پر قہقہے لگاتے ہیں اور ایسے مزے اڑار ہے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے دیکھ کر۔جب ان تصویروں کو آپ دیکھتے ہیں تو انسان بیان نہیں کر سکتا کہ دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے۔حیرت سے دیکھتے ہیں کہ ایسے انسان بھی ہیں جو اسلام کے نام پر ساری دنیا میں اپنے تقویٰ کے ڈھنڈورے پیٹتے رہے ہیں اور یہ بتاتے رہے ہیں کہ ہم اسلام کے صف اول کے سپاہی ہیں ہم وہ ہیں جن کے سپر د خانہ کعبہ کی چابیاں کی گئی ہیں۔جن کے سپرد مقامات مقدسہ کی حفاظت کی عظیم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ہم وہ ہیں جنہیں عالم اسلام میں خدا تعالیٰ نے عظیم سیادتیں بخشی ہیں ، یہ دعوے کرتے چلے جارہے ہیں اور انسانی قدروں کی حالت یہ ہے کہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے Next Door یعنی ساتھ کے ہمسایہ مسلمان ملک پر اس قدر خوفناک مظالم توڑے جارہے ہیں کہ ان کے حالات جب جنگ کے بعد سامنے آئیں گے تو مدتوں تاریخ ان کے ذکر پر روئے گی۔ہلاکو خان کی باتیں تو قصہ ہوچکی ہیں وہ پرانی باتیں ہیں۔ہلاکو خان کو تو جنگ عظیم کی ہلاکت نے خواب بنایا تھا اور اب یہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو کچھ ہوا وہ کچھ بھی نہیں تھا، ویتنام میں جو بمباری ہوئی ہے اس کی باتیں چھوڑ دو۔اب جو بمباری ہم کر رہے ہیں اس کی کوئی مثال بنی نوع انسان کی فوجی طاقت کے مظاہرے میں آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ان باتوں کو دیکھ کر قہقہے لگانے اور ہنسنا اور جہالت کے ساتھ ایسی طرز اختیار کرنا کہ جو کسی شریف انسان کو زیب نہیں دیتی۔ایسی گھٹیا حرکتیں ، ایسے گھٹیا انداز میں نے تو پہلی دفعہ دیکھا ہے