خلیج کا بحران — Page 11
11 بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء خلیجی بحران اور اس کے مہلک مضمرات خطبہ جمعہ فرموده ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مشرق وسطی کے کرب انگیز حالات شرق اوسط جسے ہم عرفِ عام میں مشرق وسطی بھی کہتے ہیں، اس کے حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور چونکہ یہ تقریباً تمام تر مسلمان علاقہ ہے، اس لئے تمام دُنیا کے مسلمانوں کو اس بارے میں تشویش لازمی ہے اور چونکہ وہ مقدس مقامات جو مسلمانوں کو دنیا میں ہر دوسری چیز سے زیادہ پیارے ہیں یعنی مکہ اور مدینہ جہاں کسی زمانے میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم پھرا کرتے تھے اور جن کی فضاؤں کو آپ کی سانسوں نے معطر اور مبارک فرمایا تھاوہ ارضِ مقدسہ بھی ہر طرف سے خطروں اور سازشوں میں گھری ہوئی ہے۔پس اس لحاظ سے آج سارا عالم اسلام گہرا کرب محسوس کرتا ہے لیکن سب سے زیادہ گہرا کرب در حقیقت جماعت احمدیہ ہی کو ہے کیونکہ آج دنیا میں اسلام کی سچی اور مخلص نمائندگی کرنے والی جماعت صرف جماعت احمدیہ ہی ہے۔جب میں کہتا ہوں کہ صرف جماعت احمدیہ ہی ہے تو ہو سکتا ہے کہ کوئی بے خبر انسان اس سے یہ خیال کرے کہ ایک جھوٹی تعلی ہے، ایک دعوی ہے اور ایک ایسی بات ہے جو دوسرے مسلمان فرقوں کو متنفر کرنے والی ہوگی اور وہ یہ سمجھیں گے کہ یہی اسلام کے علمبر دار اور ٹھیکے دار بنے پھرتے ہیں۔گویا ہمیں اسلام سے بچی ہمدردی نہیں لیکن جیسا کہ میں حالات کا تجزیہ آپ