خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 376

خلیج کا بحران — Page 84

۸۴ ۹ نومبر ۱۹۹۰ء مفادات کو قربان کر کے واپس اپنے وطن جانے پر مجبور ہو گئے۔اب اگر کویت میں پانچ لاکھ جمع تھے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ سارے عالم اسلام میں کتنے ہندو مفادات اور کتنے ہندوستانی مفادات ہوں گے اور ہندوستان کی موجودہ اقتصادی حالت کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اتنے بڑے اقتصادی خطرے کو مول لے۔پھر حکومت جس کی بھی ہو، کسی نام سے آئے وہ اسلامی قدروں کا جائز احترام کرنے پر مجبور کر دی جاسکتی ہے۔پس یہ جو معقول اور جائز طریق ہیں ان کو چھوڑ کر چند مندرجلا کر اور بھی زیادہ اسلام کو ذلیل و رسوا کرنا اور یہ ثابت کرنا کہ اس میں کوئی بھی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کی عبادت گاہ کو منہدم کرو، جلا ؤ ، رسوا اور ذلیل کرو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر فرق نہیں پڑتا تو پھر ایک مسجد سے کیا فرق پڑ جائے گا تو بہر حال یہ جو خطرات ہیں یہ بھی ایسے معاملات ہیں جن میں سوائے اسلامی فکر اور تقویٰ کے نور کے صحیح فیصلے نہیں ہو سکتے اور عالم اسلام کو چاہئے کہ وہ جاہلانہ جذباتی ردعمل دکھانے کی بجائے متقیانہ ردعمل دکھائے جس میں طاقت ہو گی، جو مفید ہو گا، جو اسلام کی بدنامی کی بجائے اسلام کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کا موجب بنے گا اور اس کے نتیجے میں کوئی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔خدا اور اس کے رسول ضرور غالب آئیں گے جہاں تک پاکستان کی موجودہ حکومت کا تعلق ہے بہت سے احمدی اس خیال میں پریشان دکھائی دیتے ہیں اور مجھے خطوط بھی ملتے ہیں کہ یہ وہ حکومت ہے جس میں وہ عناصر او پر آگئے ہیں جو احمدیت کے دشمن تھے اور ہیں لیکن جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو حکومت کے سر براہ ہیں اور جو اقتدار پر قابض ہوئے ہیں ان کے اور دعاوی ہمارے سامنے آ رہے ہیں لیکن اس سے پہلے کہ میں اس مضمون کو مختصر بیان کروں، پاکستان کی ذیلی مجالس کے ربوہ میں ہونے والے اجتماعات سے متعلق تازہ صورتحال سے آپ کو مطلع کرتا ہوں۔تین چار دن پہلے کی بات ہے کہ Fax کے ذریعے اطلاع ملی کہ ہمارے ضلع کا ڈپٹی کمشنر