خلیج کا بحران — Page 67
۶۷ ۲۶ اکتوبر ۱۹۹۰ء اور خطرات آنے والے ہیں۔ان باتوں کے رد عمل پھر اور بھی پیدا ہوں گے اور اُس کے نتیجے میں قومیاتی تصورات پھر اور بھی زیادہ اُبھریں گے، نسلی تصورات اور بھی زیادہ اُبھریں گے اور اگلا جو دُنیا کا نقشہ ہے وہ الٹنے پلٹنے والے دور سے گزرنے والا ہے۔نئے نقشے بننے میں تو ابھی دیر ہے۔اس دور میں اگر ہم مستعد ہو جائیں اور دعاؤں کے ذریعے اور اپنی ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کے ذریعے ان تمام خدشات کا مقابلہ کرنے کے لئے اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔پورے اخلاص کے ساتھ عہد کریں کہ ہم ہرگز اسلام کی بقا کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے تو پھر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری دعائیں اور ہماری پر خلوص کوششیں یقیناً دنیا کے حالات پر اچھے رنگ میں اثر انداز ہوں گی اور ہم انشاء اللہ تعالیٰ اسلام کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔