خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 376

خلیج کا بحران — Page 343

۳۴۳ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء پس قرآن کریم نے جب یہ فرمایا وَ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى تو اس کا مطلب صرف تعاون نہیں ہے، یہ مطلب ہے کہ صرف نیکی پر اکٹھے ہوا کرو۔بدی پر تعاون نہ کیا کرولیکن سیاسی دنیا کے تعاون اس بات پر ہوتے ہیں کہ نیکی یا بدی کی بحث ہی نہیں ہے ہمارے مشترکہ مفاد میں جو بات ہوگی ہم اس پہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔پس یہ فیصلے ہیں جو دنیا میں ہو چکے ہیں۔روس اور امریکہ کے درمیان یہ فیصلے ہو چکے ہیں اور چین کو اس وقت ایسی حالت میں ایک طرف پھینکا گیا ہے۔کہ اس میں طاقت نہیں ہے کہ وہ دخل دے سکے اور ا بھی اس کو اقتصادی لحاظ سے کمزور کیا جائے گا۔یہاں تک کہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔اگر یہ صورت حال اسی طرح جاری رہی تو اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا ادارہ اور اس سے منسلک تمام ادارے سیکیورٹی کونسل وغیرہ صرف کمزور ملکوں پر ظلم کے لئے استعمال کئے جائیں گے اور ان کے فائدے کے لئے استعمال ہو ہی نہیں سکتے صرف ان کے فائدے کے لئے استعمال ہوں گے جوان قوموں کی غلامی کو تسلیم کر لیں اور ان کے پاؤں چائیں، ان کے لئے اقوام متحدہ کا ادارہ دوستیں بھی لائے گا۔سہولتیں بھی پیدا کرے گا ان کو عزت کے خطابات بھی دے گا اور ان کی طرف دوستی کے ہاتھ بھی بڑھائے گا۔ہر قسم کے فائدے جو ذلت اور رسوائی کے نتیجے میں کمینگی سے حاصل ہو سکتے ہیں وہ تیسری دنیا کے ملکوں کو حاصل ہوسکیں گے لیکن عزت کے ساتھ وقار کے ساتھ سر بلندی کے ساتھ اگر اس دنیا میں اس یونائیٹڈ نیشنز کے ساتھ وابستہ رہ کر کوئی قوم زندہ رہنا چاہے تو اس کے کوئی امکان نہیں ہیں۔پس ایک حل اس کا یہ ہے کہ جس طرح پہلی جنگ کے بعد 1919ء میں لیگ آف نیشنز بنی League of nations پھر دوسری جنگ کے بعد 1945 ء میں United Nations کا قیام عمل میں آیا اس خوفناک یک طرفہ جنگ کے بعد تیسری دنیا کی ایک نئی یونائیٹڈ نیشنز کا قیام کیا جائے اور اس میں صرف غریب اور بے بس ممالک اکھٹے ہوں وہ جو Neutrality کی تحریک چلی تھی کہ نیوٹرل ممالک اکھٹے ہوں وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔اس کے اب کوئی معنی نہیں رہے اس میں جان ختم ہو چکی ہے۔اب ایک نئی تحریک چلنی چاہئے جس میں ہندوستان اور پاکستان اور ایران اور عراق وغیرہ ایک بہت ہی