خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 376

خلیج کا بحران — Page 341

۳۴۱ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء افرادی قوت مہیا کرنے والے ممالک کے مزدوروں کے تحفظ کی ضرورت اس ضمن میں ایک اور چھوٹا سا اتحاد قائم کرنا بھی ضروری ہے وہ ممالک جو تیل پیدا کرنے والے ممالک کو مزدور مہیا کرتے ہیں انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان کے مزدوروں کو اس طرح ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے اور ایسا ظالمانہ سلوک ان سے ہوتا ہے اور ان کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا کہ اس کے نتیجے میں قومی غیرت کچلی جاتی ہے اور قوم کے اندر ایک بے حیائی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔مجھے تو جانے کا موقعہ نہیں ملا مگر بعض مسافروں نے گلف میں کام کرنے والے بعض مزدوروں نے اس سلوک کے جو قصے سنائے ہیں جو ہوائی اڈوں پر اترتے ہی ان سے شروع ہو جاتا ہے اس کا سننا ہی ایک با غیرت شخص کے لئے ناقابل برداشت ہے۔مثلاً ہوائی اڈوں پر جب پاکستانی جہاز پہنچتے ہیں تو مقامی سپاہی ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے ہوٹیاں اٹھائی ہوئی۔ان کے ٹخنوں پر مارتے ہیں کہ یوں سیدھے ہو ، یہاں کھڑے ہو، ایسے قطار بناؤ اور ایسا ذلت آمیز سلوک ان سے ہوتا ہے کہ جس طرح گائے بھینسوں کو ظالم ممالک میں ہانکا جاتا ہے۔جو ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں تو گائے بھینس کی بھی اس سے زیادہ عزت کی جاتی ہے تو یہ کب تک برداشت کریں گے؟ غلاموں کی طرح ان سے سلوک اور پھر ان کی کمائیوں کا کوئی تحفظ نہیں یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ وہ غریب مزدوری کرنے جاتے ہیں اور وہ مزدوری کے نتیجے میں ساری عمر کی کمائیاں لاکھ دو لاکھ جو کماتے ہیں ، اگر ان کا مالک ناراض ہو جائے اور فیصلہ کر لے کہ ان کا حق نہیں دوں گا تو معاہدہ اس قسم کا ہوا ہوتا ہے کہ اس کے اختیار میں ہے کہ نہ دے اگر عدالت میں جائیں بھی تو وہاں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو نوکر رکھنے والا اگر ظالم اور سفاک ہواور اس کو یقین ہو کہ میں جو چاہوں کرلوں گا تو نوکر کو غلام سے بھی زیادہ ذلت نصیب ہوتی ہے پس ان ممالک کو ہندوستان، پاکستان فلپائن وغیرہ یا جن جن ممالک سے لوگ آتے ہیں وہاں اکٹھے ہو کر یہ فیصلے کرنے چاہئیں کہ ہم اپنے مزدوروں کو عزت اور وقار کا تحفظ دیں گے اور اگر ان کی حق تلفی کی گئی یا ان سے بدسلوکی کی گئی تو سب مزدور مہیا کرنے والے ممالک مل کر آجر ممالک پر دباؤ ڈال