خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 376

خلیج کا بحران — Page 329

۳۲۹ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء خود کفالت کی ضرورت اقتصادی امداد نے ان کو بھکاری بنا دیا اور بھکاری بننے کے بعد ان کی اقتصادی حالت سدھر سکتی ہی نہیں۔ہر ملک کا یہی حال ہے کیونکہ جس شخص کو جھوٹے معیار زندگی کے ساتھ چمٹ جانے کی عادت پڑ گئی ہو۔جس شخص کو اپنے جھوٹے معیار زندگی کی بھیک مانگ کر قائم رکھنے کی عادت پڑ چکی ہو، وہ نفسیاتی لحاظ سے اس قابل ہو ہی نہیں سکتا کہ اقتصادی طور پر اس میں خود اعتمادی پیدا ہو اور وہ خود کوشش کر کے اپنے حالات کو بہتر کرے۔بالکل یہی حال قوموں کا ہوا کرتا ہے۔آپ نے کبھی مانگنے والے انسانوں کو خوشحال نہیں دیکھا ہوگا۔مانگنے والے انسان مانگتے ہیں۔کھاتے ہیں پھر بھی برے حال میں رہتے ہیں ہمیشہ ترستے ہی ان کی زندگیاں گزرتی ہیں اور وہ لوگ جو قناعت کرتے ہیں وہ اس کے مقابل پر بعض دفعہ نہایت غریبانہ حالت سے ترقی کرتے کرتے بڑے مالدار بن جاتے ہیں۔پس تیسری دنیا کی قومیں بدقسمتی سے ایک اور لعنت کا شکار ہیں اور وہ ہے ، قناعت کا فقدان عزت نفس کا فقدان ہاتھ پھیلانے کی گندی عادت اور اس عادت کے نتیجے میں معیار زندگی کا جھوٹا ہو جانا آپ نے دیکھا ہو گا بعض دفعہ امیر آدمی بھی ہوٹلوں پر اس طرح خرچ نہیں کرتا جس طرح ایک مانگنے والا بھکاری بعض دفعہ خرچ کر دیتا ہے۔اس کے نزدیک دولت کی قدر ہی کوئی نہیں ہوتی۔پیسے مانگے اچھا کھا لیا اور چھٹی ہوئی اور اگلے وقت کے لئے خدا تعالیٰ پھر ہاتھ سلامت رکھے تو مانگنے کے لئے کافی ہیں۔بالکل یہی نفسیات ان قوموں کی ہو جایا کرتی ہے۔ایک جھوٹا فرضی معیار زندگی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور دیکھنے میں خوشحال دکھائی دیتے ہیں۔حالانکہ ان کی خوشحالی مانگے کی خوشحالی ہے پس اس خوشحالی کی وجہ سے دھو کے میں مبتلا رہتے ہیں غربت کی تنگی ان کو مجبور کرسکتی تھی کہ وہ اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور اس کے لئے محنت کریں اور کوشش کریں وہ تنگی صرف وہاں محسوس ہوتی ہے جہاں قوم کا طبقہ بے بس ہے اور جہاں صاحب اختیار طبقہ ہے وہاں محسوس نہیں ہوتی یعنی ایسی قومیں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہیں ایک بہت ہی محدود طبقہ ہے جو