خلیج کا بحران — Page 320
۳۲۰ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء کے متعلق بھی جو مبصر وہاں تبصرہ کر رہا تھا اس کی اپنی آواز بار بار کانپ جاتی تھی اور وہ کہتا تھا کہ تصور میں بھی نہیں آسکتا کہ آج رات کیسی ہولناک بمباری ہو رہی ہے۔میں نے اس کے متعلق پہلے بھی کہا تھا کہ اور باتوں کے علاوہ دراصل یہ ویٹنام کی ذلت کا بھوت ہے جو احساس کمتری بن کر امریکہ پر سوار ہے اور کسی طرح اس بھوت کو وہ ہمیشہ کے لئے نکالنا چاہتے ہیں۔پس وہ رات ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک خاص بدمستی کی رات تھی جس میں عراقیوں کے خون کی شراب پی کر وہ ویٹنام کا غم غلط کرنا چاہتے تھے۔میرا یہ تاثر اس طرح درست ثابت ہوتا ہے کہ اس جنگ کے بعد صدر بش نے جو تبصرہ کیا وہ بعینہ یہی تبصرہ ہے۔انہوں نے اعلان کیا:۔By God we have kicked the vietnam syndrome once and for all۔(Harrisburg patriot News, Mar۔2, 1991, U۔S۔A) کہ خدا کی قسم ! ہم نے ویٹنام کے احساس کمتری کو جو ایک اندرونی بیماری بن کر ہماری جان کو لگ چکا تھا ہمیشہ کے لئے ٹھڈے مار کر باہر نکال دیا ہے۔لیکن اصل واقعہ یہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں ، اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک انتہائی ہولناک ظلموں کی داستان کا ہوا تھا جو دراصل ان کے پیچھے پڑا ہوا تھا اور ویسی ہی ایک اور ظلموں کی داستان کا ایک اور ہوا انہوں نے پیدا کر دیا ہے پس اب ایک ہوے کا مسئلہ نہیں۔اب دو ہوؤں کا مسئلہ ہے دو بھوت ہیں جو ہمیشہ امریکہ پر سوار رہیں گے ایک ویٹنام کا بھوت اور ایک عراق پر ظلم و ستم کا بھوت۔ان کو یہ ہوا اس لئے دکھائی نہیں دے رہا کہ ان کے ہاں اس مسئلہ کا تجزیہ اس سے بالکل مختلف ہے جو تجزیہ دنیا کی نظر میں ہے۔دنیا ویٹنام کو اس طرح نہیں دیکھتی کہ وہاں 54 ہزار امریکن ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں واپس اپنے وطن پہنچائی گئیں۔دنیا و بینام کے قصے کو اس طرح دیکھتی ہے کہ 25 لاکھ ویٹنا می وہاں ہلاک ہوئے اور ہزار ہا شہر اور بستیاں خاک میں مل گئیں۔تو زاویے کی نظر سے مختلف صورتیں دکھائی دے رہی ہیں۔مختلف مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔پس جس ویٹنام سے وہ