خلیج کا بحران — Page 309
۳۰۹ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہیں۔جن مغربی یا مشرقی قوموں کو مشرک اور خدا سے دور اور خدا کے دشمن اور بت پرست اور ظالم اور سفاک بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ حکم سنایا جاتا ہے کہ ان سے لڑنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے راکٹ مانگنے کے لئے بھی ان کی طرف ہاتھ بڑھائے جاتے ہیں اور سمندری اور ہوائی جنگی جہاز مانگنے کے لئے بھی ان کی طرف دیکھا جاتا ہے، تو ہیں بھی ان سے مانگی جاتی ہیں۔ہر قسم کے راکٹ اور دوسرا اسلحہ بھی ان سے طلب کیا جاتا ہے۔سادگی کی حد ہے۔کہتے ہیں اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں لیکن یہ سادگی پھر بھی قرین قیاس ہے۔سمجھ میں آجاتی ہے، بھولا پن ہے مگر تمہاری سادگی جہالت کی انتہا ہے کہ جن کو دشمن قرار دیتے ہو ، جن کوللکارتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارے مذہب کی تلقین ہے کہ تمہارے خون کا آخری قطرہ چوس جائیں انہی سے مخاطب ہو کے کہتے ہو کہ ہم نہتے ہیں۔ہمیں ہتھیار تو دو کہ تمہاری گردنیں اڑائیں۔اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوسکتی ہے۔پس اب ایک قوم کی قوم نے اپنے مفادات کی خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہو تو کون ہے جو ان کی مدد کو آئے گا اور کیسے کوئی ان کی مدد کر سکے گا۔ایسی قوموں کی تو پھر خدا بھی مدد نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) ہرگز خدا تعالیٰ کسی قوم کی امداد کا فیصلہ نہیں کرتا۔کسی قوم کی امداد کو نہیں آتا۔اس کے اندر تبدیلیاں پیدا نہیں کرتا جتنى يُغَيِّرُ وا مَا بِأَنْفُسِهِمْ اس کے دونوں معنی ہیں یعنی یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو تبدیل کر لیں۔ایک اور آیت میں اس کا یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ وہ قو میں جو اپنی نعمتوں کو خود اپنے ہاتھ سے ضائع نہ کر لیں ، ضائع کرنے کا فیصلہ نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کی نعمتوں کو تبدیل نہیں کیا کرتا۔اس آیت کو کھلا چھوڑا گیا ہے جس کا مطلب ہے دونوں معانی ہو سکتے ہیں کہ وہ قومیں جو اپنی نعمتوں کو تبدیل کرنے میں جو خدا نے ان کو عطا کی تھیں پہل نہ کریں اللہ تعالیٰ بھی ان کی نعمتوں کی حفاظت فرمائے گا اور دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قومیں جو خود اپنی تقدیر بنانے میں کوشش نہ کریں اور اپنے حالات کو