خلیج کا بحران — Page 306
۳۰۶ یکم مارچ ۱۹۹۱ء اسلامی ممالک کے لئے حقیقی خطرہ یہی وہ خطرات ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے ، جن کی وجہ سے کسی اسلامی ملک میں حقیقی جمہوریت آہی نہیں سکتی۔اگر جمہور کی بات کریں تو جمہور کی تعلیم و تربیت کا کوئی مؤثر انتظام نہیں ہے۔نہ سیاسی سوچ میں ان کو شامل کیا جاتا ہے، نہ مذہبی سوچ میں ان کو شامل کیا جاتا ہے بلکہ حکمران طبقہ ان کے نام پر ووٹ لے کر ابھر کر ایک نیا تشخص حاصل کر لیتا ہے۔پس ایسے ملک جہاں حکمران طبقے اور عوام الناس میں سوچ اور مذہبی خیالات کی ہم آہنگی نہ ہو وہاں اگر جمہوریت آبھی جائے تو وہ آمر پیدا کر سکتی ہے جمہوری حکمران پیدا نہیں کر سکتی اور دنیا میں بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعے آمر پیدا ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ چونکہ مسلمان حکمرانوں کو ہمیشہ یہ خطرہ دامن گیر رہتا ہے کہ ملائیت ہمارے عوام کو کہیں اس حد تک اسلام کے نام سے ہمارے خلاف نہ کر دے کہ ہمارے خلاف کسی قسم کا انقلاب بر پا ہو جائے۔اس خطرے کے پیش نظر وہ ضرور آمر بننا شروع ہو جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ جبر کو اختیار کرنے لگتے ہیں اور چونکہ جن پر ظلم کیا جاتا ہے وہ عوام کی نظر میں اسلام کے بچے ہمدرد ہوتے ہیں اس لئے دن بدن علماء کے حق میں اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت کے جذبات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔وو پس یہ ایک مسئلہ نہیں۔اس مسئلے کی کئی شاخیں ہیں اور ان سب مسائل کا ایک ہی علاج ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ قرآن کے عدل کے نظام کو اس طرح مضبوطی سے پکڑ لیں جیسے عروہ و ثقی“ پر ہاتھ ڈال دیا جاتا ہے جس کے لئے پھر ٹوٹنا مقدر نہ ہو۔یہی وہ خدا کی رسی ہے، عدل کی رسی جسے محد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقوام عالم میں امن پیدا کرنے کے لئے لڑکا یا تھا۔اس رسی کا دامن چھوڑ کر آپ کو دنیا میں کہیں امن نصیب نہیں ہوسکتا پس مضبوطی سے اس کڑے پر ہاتھ ڈالیں اور تمام دنیا کو بھی جو امن کی متلاشی ہے اسی کڑے پر ہاتھ ڈالنے کے لئے دعوتیں دیں۔پھر ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ جہاد کے دعاوی بھی کئے جاتے ہیں اور اعلان بھی کئے