خلیج کا بحران — Page 304
۳۰۴ یکم مارچ ۱۹۹۱ء سلمان سیاست دانوں کا فرض میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان سیاستدانوں کا بھی اس میں بہت بڑا قصور ہے۔انہوں نے خود اسلام کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔دین ملاں کے سپرد کر بیٹھے اور یقین کر لیا کہ ملاں اسلام کی جو بھی تصویر پیش کر رہا ہے وہی درست ہے لیکن ان کے ضمیر نے اور ان کی روشن خیالی نے اس تصویر کو رد کیا ہے لیکن یہ جرأت نہیں رکھتے کہ ان نظریات کو غیر اسلامی سمجھتے ہوئے بھی ان کی مخالفت کر سکیں۔پس اس نفسیاتی الجھن نے تمام اسلامی ریاست کو مریض بنارکھا ہے دوغلا اور منافق بنا دیا ہے۔اپنے عوام ان ملانوں کے سپرد کر دیئے ہیں جو ازمنہ وسطی کی سوچ رکھتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے روشن زمانے سے روشنی حاصل نہیں کرتے اس لئے جب انہوں نے اپنے عوام کو ہی ان کے ہاتھ میں دے دیا تو ان کی طاقت سے ڈر کر وہ کھلم کھلا یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتے کہ یہ اصول غلط ہیں کیونکہ وہ خود بھی ان کو نعوذ باللہ اسلامی اصول سمجھ رہے ہیں۔پس اب وقت ہے کہ حکومتیں ہوش کریں اور عالم اسلام جو دو نیم ہوا پڑا ہے، سیاست کی دنیا الگ ہے اور مذہبی سوچ کی دنیا الگ ہے اور ان دونوں کے درمیان تصادم ہے۔یہ دوسرا خطر ناک پہلو ہے جس کے نتیجے میں عالم اسلام کو خود اپنی طرف سے بھی خطرہ ہے اور اس خطرے کی بیخ کنی ضروری ہے بلکہ فوری ہے ورنہ ایک نئے جہان کا نظام نو بنانے میں مسلمان کوئی کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔پس ضروری ہے کہ مسلمان حکومتیں واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کریں کہ قرآن کے نظام عدل سے ٹکرانے والا کوئی نظریہ اسلامی نہیں کہلا سکتا اس سے بڑی اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔بار بار علماء کو چیلنج کریں کہ آؤ اور اس میدان میں ہم سے مقابلہ کر وہم اعلان کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا نظام عدل واضح اور بین اور غیر مبہم ہے اور عالمی ہے قومی نہیں ہے۔اگر عالمی نہ ہو تو نظام عدل کہلا ہی نہیں سکتا۔بین الاقوامی ہے۔Absolute ہے پہلے اس بات پر بحث کرو کہ یہ ہے کہ نہیں اور اگر ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کے نظام عدل سے ٹکرانے والا ہر نظریہ غیر اسلامی ہے۔