خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 376

خلیج کا بحران — Page 279

۲۷۹ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء احسانات کی یادوں کو بھولتے چلے جارہے ہیں۔یہ عجیب قوم ہے کہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ جب از ابیلا اور فرڈینینڈ نے 1490ء میں یہودیوں کے پین سے انخلاء کا حکم دیا تو اس سے پہلے تقریباً 200 سال مسلسل سپین میں یہودیوں پر ظلم ہوتے رہے لیکن وہ ایسے ظلم تھے کہ ان کے نتیجے میں یہود نے پھر بھی وہاں سے نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔بالآخر جبراً ان کو عیسائی بنایا گیا اور جب بڑی تعداد میں یہودی عیسائی بن گئے تو پھر یہ تحریک شروع کی کہ یہ جھوٹے عیسائی ہیں دھوکہ دینے کے لئے عیسائی بنے ہیں۔ابھی بھی بہت امیر ہو گئے ہیں اس لئے ان کی دولت چھینے کے لئے کوئی بہانہ تلاش کرو۔چنانچہ اذا بیلا کو اور فرڈینینڈ کو اس وقت کے عیسائی پادریوں نے بار بار یہ تحریص کی اور لالچ دلائی کہ اس قوم کا ایک ہی علاج ہے کہ ان کی عیسائیت پر اعتماد نہ کیا جائے اور ہمیں Inquisition کی اجازت دی جاۓInquisition سے مراد ہے : وہ ٹارچر کرنے کے ذرائع جو عیسائی دنیا اپنے مخالفوں کے خلاف استعمال کرتی تھی اور ان ذرائع سے نہایت ہی درد ناک مظالم غیر عیسائیوں پر کئے جاتے تھے اور ان عیسائیوں پر کئے جاتے تھے جن کے دین پر شک ہو۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک یہ بحث جاری رہی۔ازابیلا چونکہ یورپ سے ناراض تھی Sixtus IV تھا غالبا اس وقت ، اس سے کسی وجہ سے ناراض تھی۔وہ اس کی مرضی کے کارڈینل مقرر نہیں کرتا تھا۔اس لئے اس نے اجازت نہیں دی کی پوپ کی مقرر کردہ کوئی کمیٹی Inquisition کے کام سپین میں کرے۔بالآخر فرڈینینڈ کو عیسائی پادریوں نے یہ لالچ دی کہ اگر تم اس کی اجازت دے دو تو یہود کے جتنے اموال چھینے جائیں گے یہ ہم تمہارے قبضے میں دیں گے۔ہمیں صرف ظلموں کی اجازت دو، اموال تمہارے۔چنانچہ 1480ء سے Inquisition شروع ہوئی۔Inquisition کی تاریخ حقیقتا اتنی دردناک ہے کہ شاید ہی کبھی انسانی تاریخ میں ایسے درد ناک مظالم کی مثال آپ کو نظر آتی ہو جیسے اس زمانے میں یہودیوں پر عیسائیوں کی طرف سے کئے گئے۔اس کے باوجود دل نہیں بھرا تو 1492ء میں ان کے انخلاء کا حکم جاری کر دیا گیا۔آپ کو یاد ہوگا کہ Black Death جو 1347 ء سے 1352 ء تک یورپ میں ہلاکت