خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 376

خلیج کا بحران — Page 278

۲۷۸ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء پیدا کرتا ہے۔اپنی جہالت سے اسلام کا ایک ایسا تصور پیش کرتا ہے جس سے دنیا خوف کھاتی ہے کہ یہ لوگ اگر طاقت پائیں گے تو ہم پر جبر و تشدد کریں گے۔اس مسئلے کے متعلق بعد میں جب میں مسلمانوں کو مشورہ دوں گا تو پھر اس ذکر کو چھیڑوں گا۔یہ میں آپ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کو مسلمانوں کے پیچھے ڈال کر اگر ان کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کی مدافعانہ طاقت کو توڑ دیں گے یا اس طرح اسرائیل ان مظالم کو بھول جائے گا جو مغرب نے اسرائیل پر کئے ہوئے ہیں یا ان مظالم کا بدلہ مسلمانوں سے لیتا رہے گا تو یہ ان کی سب سے بڑی حماقت ہے۔اسرائیل کے انتقام کی یاد داشت بہت قوی ہے اور نہ مٹنے والی ہے اور اسرائیل کے احسان کی یادداشت اس طرح ہے جس طرح پانی پر تحریر لکھی گئی ہو۔آپ کو اگر اسلامی تاریخ سے واقفیت ہو تو آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ 800 سال تک سپین پر مسلمانوں نے جو حکومت کی ہے اس تاریخ میں ایک واقعہ بھی کسی یہودی پر ظلم کا آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔مسلمانوں کی طاقت کے ادوار میں جب بھی آپ جس دور پر بھی نظر ڈالیں ، ایک دوسرے پر ظلم تو آپ کو دکھائی دے گا اور وہ بھی اس وقت جب ملاں ایک فرقے کے ماننے والوں کو دوسرے فرقوں کے ماننے والوں کے خلاف بھڑ کا تارہا لیکن یہودیوں اور عیسائیوں کے خلاف اسلام کی تاریخ میں آپ کو کوئی مظالم دکھائی نہیں دیں گے۔تین ایسے قبائل ہیں جن کا تاریخ اسلام کے آغاز سے تعلق الله ہے۔جنہوں نے بار بار معاہدہ شکنی کی اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے دھو کے کئے۔ان کے خلاف جنگ کے دوران حملہ آوروں سے ملتے رہے ، ان تین قبائل کے خلاف بالآخر مسلمانوں کو کارروائی کرنی پڑی۔وہ قبائل ہیں بنو قینقاع، بنونضیر ، بنو قریظہ۔جب 1947ء میں یونائیٹڈ نیشنز میں اسرائیل کے قیام پر بحث ہورہی تھی تو وہاں اسرائیلیوں نے مسلمانوں کو طعن دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا حق ہے اور تمہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے نکالنے کی عادت ہے۔ہم آج تک نہیں بھولے جو تم نے بنوقریظہ اور بنونضیر اور بنو قینقاع سے کیا تھا ، تو یہ عجیب یادداشت ہے کہ فرضی مظالم کی یادیں تو 1400 سال سے زندہ رکھے ہوئے ہیں اور حقیقی