خلیج کا بحران — Page 277
۲۷۷ ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اس United Nations کا فائدہ کیا ہے؟ میں تو یہ سوچتا ہوں اور عرب اور مسلمان ممالک کو اگر وہ ہوشمند ہیں اور باقی دنیا کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ اس United Nations کا کیا فائدہ ہے جو عملاً صرف ان بڑی قوموں کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے جو بڑی قو میں یونائیٹڈ نیشنز پر قابض ہو چکی ہیں اور یونائیٹڈ نیشنز کا دستور جن کو یہ طاقت دیتا ہے کہ جب چاہیں کسی کے خلاف ظلم کریں اور ساری دنیا کی قوموں کو یہ طاقت نہ ہو کہ اس ظلم کے خلاف آواز ہی بلند کرسکیں۔اگر وہ آواز بلند کرنے کی کوشش کریں تو اس کو ویٹو کر دیا جائے اور اپنے کسی چیلے سے جس طرح چاہیں کسی پر ظلم کروائیں کسی دنیا کی طاقت نہ ہو کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کرے اور کلیۂ دنیا کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہو۔یونائیٹڈ نیشنز کی یہ کیفیت ہے۔جب عربوں کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف فیصلے کرنے ہوں تو انتہائی ظالمانہ فیصلے کئے جائیں اور جب ان کے حق کی بات ہو تو سوائے چند آوازیں نکالنے کے اس کی اور کوئی بھی حیثیت نہیں۔بچپن میں مجھے مرغیاں پالنے کا شوق تھا میں نے دیکھا ہے کہ بعض مرغیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ بیٹیں پالنے والے کے صحن میں کرتی ہیں اور انڈے دوسرے کے صحن میں جا کر دیتی ہیں۔پس United Nations کی مرغی تو ویسی ایک مرغی ہے۔سیٹیں کرنے کے لئے عربوں اور مسلمانوں کے صحن رہ گئے ہیں اور انڈے دینے کے لئے اسرائیل اور مغرب کے صحن ہیں۔پس اگر یہی یونائیٹڈ نیشنز کا تصور ہے اور یہی اس کے مقاصد ہیں تو دنیا کو سوچنا چاہئے۔چنانچہ اس بارہ میں میں بعد میں انشاء اللہ جب دنیا کو عمومی مشورے دوں گا تو ان کو ایک مشورہ اس سلسلے میں بھی دوں گا۔مغربی دنیا کی اسلام سے گہری دشمنی ایک ہی بات بالآخر سمجھ آتی ہے کہ مغربی دنیا در حقیقت اسلام سے گہری دشمنی رکھتی ہے اور اس دشمنی کے پس منظر میں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا تاریخی رقابتیں بھی ہیں اور اس دشمنی کی وجہ ایک وہ خوف بھی ہے جو جاہل ملاں اسلام کے متعلق مغربی دنیا اور دوسری دنیا کے دلوں میں